تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 510
ذات میں تدبیر امور اور حکومت اور بادشاہت کی صفات پائیداری کے ساتھ پائی جاتی ہیں اور یہ صفات سوائے خدا تعالیٰ کے کسی اور ذات میں نہیں پائی جاتیں۔کیونکہ وہی ایک ذات ہے جو ازلی اور ابدی ہے۔آ لَ کے ایک معنے لوٹنے کے ہیں۔ان معنوں کے لحاظ سے اِیْل کے معنے ہوں گے کہ وہ ذات جس کے اندر لوٹنے کی صفت پائیداری اور ہمیشگی کے ساتھ پائی جاتی ہے اور یہی معنے بلفظ دیگر تَوَّابٌ کے ہیں۔یعنی بار بار رحمت کے ساتھ اپنے بندوں پر لوٹنے والا۔الغرض پہلے مادہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل کے معنے مندرجہ ذیل ہوں گے (۱) ازلی ابدی بادشاہ (یعنی خدا تعالیٰ) کا سخت گرفت رکھنے والا بندہ (۲) ازلی ابدی مُدَبّرہستی کا سخت گرفت رکھنے والا بندہ (۳) بار بار لوٹنے والے کا (یعنی تَوَّاب خدا کا) بہادر بندہ۔دوسرے مادہ یعنی یَسْر کے لحاظ سے اسرائیل کے معنے ہوںگے اللہ تعالیٰ کا پورا مطیع و فرمانبردار اور اس کے اخلاق کو اپنے اندر لینے والا۔عبرانی زبان چونکہ عربی سے نکلی ہے اس لئے اگرچہ اسرائیل کا تلفظ عبرانی میں بدل گیا اور اِسْرکو یَسر اور اِیْل کو ایل (نرم زبان سے یعنی زبر اور زیر کے درمیانی تلفظ سے) کر دیا گیا اور عربی زبان جو کہ اپنے اصل معنے کا انکشاف کرتی ہے عبرانی نے اسے محدود کر دیا۔کیونکہ عبرانی میں اسرائیل کے معنے صرف خدا کے جنگجو بہادر سپاہی کے ہیں لیکن عربی زبان میں جہاں یہ معنے بھی بالوضاحت پائے جاتے ہیں وہاں ایک اور معنے کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ یہ لفظ یَسْـرسے بھی صفت مشبہ کا صیغہ بن سکتا ہے اور یہ لفظ اس خاص حالت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انبیاء کی فطرت میں پائی جاتی ہے یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے لئے سرِ تسلیم َخم رکھنا۔گویا اسرائیل اس شخص کو کہیں گے جو اللہ تعالیٰ کا مطیع و فرمانبردار ہو اور اس کے احکام کے ماننے کے لئے ہر وقت اپنے تئیں تیار رکھے۔ان معنوں کی تصدیق تاج العروس والے نے بھی کی ہے چنانچہ لکھا ہے کہ مَعْنَاہُ صَفْوَۃُ اللہِ وَقِیْلَ عَبْدُاللہِ کہ اسرائیل کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ کیا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے احکام کا فرمانبردار۔بعض لوگوں نے اس کے معنے سَرِیُّ اللہِ کے کئے ہیں (تاج ) سَرِیٌّ کے معنے عربی زبان میں صاحب شرف و مروت اورفَیّاض کے یا معزز شریف سردار کے ہیں۔لیکن HEBREW AND ENGLISH LAXICON OF THE OLD TESTAMENT میں اس بات کی تصریح کر دی گئی ہے کہ یَسْرٌ کے حقیقی معنے سَرِیٌّ کے نہیں ہاں اس سے ملتا جلتا مفہوم ہے (اصل بات یہ ہے کہ یَسْرٌ چونکہ جنگجو بہادر کو کہتے ہیں اور ایسا شخص ہی سردارِ لشکر ہو سکتا ہے جو بہادر اور جنگجو ہو اور عرب لوگ