تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 509
مطابق ان کو ان کی بہادری کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا۔تورات میں آتا ہے ’’کہ تیرا نام آگے کو یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل ہو گا کیونکہ تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالب ہوا۔‘‘ (پیدائش باب ۳۲ آیت ۲۸) عبرانی کی ُلغت ANALYTICAL HEBREW AND CHALDEC میں لکھا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے لقب کے علاوہ ان کی نسل پر (بھی) یہ لفظ بولا جاتا ہے یعنی کبھی بنی اسرائیل کو خالی اسرائیل بھی کہہ دیتے ہیں۔عربی اسرائیل کا عبرانی تلفظ یَسْرَائِیْل ہے اور یہ مرکب ہے یَسر اور اِیل سے۔یَسر کے معنے ہیں جنگجو بہادر سپاہی۔اور اِیل کے معنے ہیں خدا۔پس یَسْرَائِیْل کے معنے ہوئے خدا کا بہادر سپاہی WARRIOR OR SOLDIER OF GOD عربی زبان کے لحاظ سے یہ لفظ اِسْر اور اِیْل سے مرکب ہے گو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ کلیۃً عبرانی لفظ ہو اور عربی میں مستعار طور پر استعمال ہوتا ہو لیکن عربی زبان اور عبرانی زبان در حقیقت ایک ہی ہیں اور ہماری تحقیق میں عبرانی زبان عربی کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔یورپین مصنّفوں میں سے بھی بعض اس خیال کے ہیں گو اکثر مذہبی تعصب کی وجہ سے ان دونوں زبانوں کو ایک اور زبان کی شاخ ہی قرار دیتے ہیں بلکہ بعض تو عربی کو عبرانی کی شاخ تک قرار دے دیتے ہیں لیکن یہ موقع اس بحث کا نہیں اس موقع کے مناسب حال اس قدر کہنا کافی ہے کہ عربی اور عبرانی کا اشتراک ایک مسلّمہ حقیقت ہے اسے مدِّنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لفظ اصل میں عربی ہے اور عبرانی زبان میں اس کی شکل بدل گئی ہے اور ہمزہ نے یاء کی شکل اختیار کر لی ہے۔عربی زبان میں اَسَرَالرَّجُلُ کے معنے ہیں قَبَضَ عَلَیْہِ وَ اَخَذَہٗ۔(اقرب) یعنی فلاں شخص اپنے مدمقابل پر غالب آگیا اور اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ان معنوں کے اعتبار سے اِسْـرکے معنے ہوں گے وہ شخص جس کے اندر بہادری اور قوت ہو اور وہ اپنے مدِّمقابل پر غلبہ پا کر اسے اپنی گرفت میں لے لے۔اگر عبرانی کے تلفظ اور رسم الخط کو دیکھا جائے تو یَسْر کے معنے ہیں اَللِّیْنُ وَالْاِ نْقِیَادُ (لسان) کسی کی بات کو آسانی سے قبول کر لینا اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔لفظ اِیْل عربی زبان میں خدا تعالیٰ کے معنوں میں نہیں آتا۔ہاں اگر غور کیا جائے تو اس کے حقیقی معنے اللہ تعالیٰ پر ہی صادق آتے ہیں کیونکہ یہ آلَ سے بنا ہے اور آلَ کا اسم فاعل آئِلٌ بنتا ہے اور اِیْل اس سے صفت ِ مُشَبّہ کا صیغہ ہے آلَ کے معنے ہیں سَاسَ یعنی اس نے نگہداشت کی۔چنانچہ کہتے ہیں آ لَ الرَّجُلُ اَھْلَہٗ اَیْ سَاسَہُمْ کہ فلاں شخص نے اپنے کنبہ کی پوری نگہداشت کی (اقرب) نیز کہتے ہیں آ لَ الْمَلِکُ الرَّعِیَّۃَ کہ بادشاہ نے اپنی رعیّت کی نگرانی رکھی اور رعیّت کے ساتھ تعلق رکھنے والے امور کی تدبیر کی۔نیز کہتے ہیں آ لَ عَلَی الْقَوْمِ۔وَلِیَ۔کہ وہ قوم پر بادشاہ ہو گیا۔پس آئِلٌ کے معنے ہوئے مدبر۔حاکم۔بادشاہ۔اور اِیْلٌ کے معنے ہوں گے ایسی ہستی جس کی