تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 502
دوسرے شبہ کا جواب یہ ہے کہ منکرین قرآن کے فائدہ اُٹھانے کا یہاں سوال ہی نہیں قرآن کریم کی تعلیم دو حصوں پر مشتمل ہے (۱) وہ حصہ جو مومن و کافر سب کے لئے مشترک ہے (۲) وہ حصہ جو صرف مومنوں کے لئے نصیحت اور فائدہ کا موجب ہے۔جن حصص میں عقلی دلائل اور معجزاتِ عامہ اور مختلف مذاہب کی کتب کے نقلی دلائل بیان ہوئے ہیں وہ تو مومن و کافر یا مومنوں اور خاص خاص مذاہب کے کافروں کے لئے حجت ہیں اور جن حصوں میں خالص روحانی امور بیان ہوئے ہیں وہ صرف مومنوں کے لئے مفید ہیں اور کافروں کے لئے اسی وقت مفید ہو سکتے ہیں جب پہلے ان کے عقائد کی اصلاح ہو جائے اور یہ حصہ صرف مومنوں سے تعلق رکھتا ہے اس لئے کفار کو اگر اس کی حکمت سمجھ میں نہ آئے تو کوئی اعتراض کی بات نہیں۔جس طرح ایک دہریہ کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ کو نہیں مانتا نبوت کے دلائل بیان کرنے سے رُکا نہیں جا سکتا اسی طرح جو لوگ کسی خاص نبی کو نہیں مانتے ان کی وجہ سے اُس نبی کے اتباع کے فائدہ کی باتوں کے بیان کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔لفظ اِھْبِطُوْاسے بعض لوگوں کا غلط استدلال اور اس کا صحیح مطلب اِھْبِطُوْا کے لفظ سے دھوکا کھا کر بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آدم علیہ السلام آسمان پر تھے پھر انہیں زمین پر پھینکا گیا مگر جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا گیا ہے اس لفظ کے معنے چلے جانے کے بھی ہوتے ہیں اور اس امر کو دیکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین میں خلیفہ بنایا تھا اس جگہ اس کے یہی معنے ہیں۔قرآن کریم میں ان معنوں میں یہ لفظ دوسری جگہ پر بھی استعمال ہوا ہے مثلاً بنی اسرائیل کی نسبت فرماتا ہے۔اِهْبِطُوْا مِصْرًا (البقرة:۶۲) شہر کی طرف چلے جائو یا شہر میں داخل ہو جائو۔فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ اس کے بعد آدم نےاپنے رب سے کچھ(دعائیہ) کلمات سیکھے(اور ان کے مطابق دعا کی ) تو وہ(یعنی اللہ )اس کی الرَّحِيْمُ۰۰۳۸ طرف (پھر فضل کے ساتھ )متوجہ ہوا۔یقیناً وہی (بندوں کی مصیبت کے وقت) بہت ہی توجہ کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حَل لُغَات۔تَلَقّٰی۔تَلَقّٰی لَقِیَ سے باب تفعّل کا واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور تَلَقَّاہُ کے معنے ہیں اِسْتَقْبَلَہٗ اس کو آگے سے جا کر ملا۔چنانچہ کہتے ہیں فُـلَانٌ یَتَلَقّٰی فُـلَانًا اَیْ یَسْتَقْبِلُہٗ فلاں شخص فلاں کو آگے