تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 501
تھا جو اب بنکوں کو دینا پڑتا ہے۔موجودہ سود سے بچنا تو قوم کو تباہ کرتا ہے اور اس سود کا لینا قوم کو تباہ کرتا تھا اس لئے اب بنکوں کا سود لینا منع نہیں بلکہ قومی زندگی کے لئے ضروری ہے اور کئی مسلمان جو دل سے اسلام کے احکام پر عمل کرنے کے خواہشمند ہیں اس دھوکے میں آ کر سود لے رہے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں نے عورتوں کو دھوکا دیا ہے کہ عرب کا ملک جاہل تھا اور پردہ نہ کرنے کی وجہ سے اس وقت کی عورتیں گمراہ ہو سکتی تھیں لیکن اب تعلیم کا زمانہ ہے اب پردہ چھوڑنے میں حرج نہیں بلکہ مسلمان عورتوں کے باہر آنے میں اسلام کی مضبوطی ہے اور کئی عورتیں جو دل سے اسلام سے محبت رکھتی ہیں اس دھوکے میں آ کر پردہ چھوڑ رہی ہیں۔اس سوال کا جواب کہ وہ امر کیا تھا جس کے بارہ میں شیطان نے دھوکہ دیا؟ باقی رہا یہ سوال کہ وہ کیا امر تھا جس کے بارہ میں شیطان نے دھوکا دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مصلحت سے اس امر کو پوشیدہ رکھا ہے پس اجمالاً اس امر پر یقین رکھنا کافی ہے کہ ممنوع باتوں میں سے کسی ایک کو جس کے بارہ میں دھوکا لگ سکتا تھا شیطان نے پیش کیا اور اس کی نسبت یہ دھوکا دیا کہ حالات کے بدل جانے کی وجہ سے اب اس کا ترک دین کے لئے مضر ہے جس طرح کہ پہلے اس کا اختیار کرنا دین کے لئے مضر تھا۔ممکن ہے کہ اس وقت کے دشمنوں سے تعلقات پیدا کرنے کے متعلق ہی تحریک کی ہو جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے منافق کہا کرتے تھے۔ہماری جماعت کو بھی اس بارہ میں ایک حصہ سے اس قسم کا تلخ تجربہ ہوا ہے اور حال کے زمانہ کی یہ دو مثالیں ہمیں اس طرف رہبری کرتی ہیں کہ آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی شیطان نے کوئی ایسی ہی چال چلی تھی۔شائد کسی کے دل میں یہ ُشبہ پیدا ہو کہ جب اس امر کو جس کے بارہ میں شیطان نے آدم علیہ السلام کو دھوکا دیا تھا ظاہر نہیں کیا گیا تو (۱) اس سے ہم فائدہ کیا اُٹھا سکتے ہیں (۲) دشمنانِ قرآن پر یہ مبہم بیان حجت کیونکر ہو سکتا ہے؟ پہلے شبہ کا جواب یہ ہے کہ اس واقعہ سے جس امر سے ہوشیار کرنا ہمیں مقصود ہے وہ صرف یہ ہے کہ کبھی دشمن نیکی کے جُبّہ میں آ کر اور بُری بات کو نیک توجیہ کے پردہ میںچھپا کر گمراہ کرناچاہتا ہے مسلمانوں کو اس سے ہوشیار رہنا چاہیے۔یہ غرض اس مضمون سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے باقی رہا یہ کہ آدم علیہ السلام کو کسی خاص امر میں شیطان نے دھوکا دیا تھا اس کا بیان کرنا ضروری نہیں کیونکہ ہر زمانہ میں شیطان نیا رنگ اختیار کرتا ہے اگر اس خاص امر کو بیان کر بھی دیا جاتا تو مسلمانوں کو کوئی خاص فائدہ نہ ہو سکتا تھا۔جس قدر واقع بیان کیا گیا ہے وہ مومنوں کو منافقوںکی چالبازیوں سے ہوشیار کرنے کے لئے کافی واضح اور بیّن ہے۔