تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 492

قرآن کریم میں شجرہ کے لفظ کا استعمال برُی اور اچھی باتوں کےلئے شجرہ کا لفظ قرآن کریم میں استعارۃً اچھی اور بری باتو ںکی نسبت استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ (ابراہیم :۲۵) یعنی کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پاک بات کی کیفیت پاک درخت کی مثال سے بیان فرمائی ہے پھر فرماتا ہے وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِ (ابراہیم :۲۷) بُری بات کی کیفیت بُرے درخت کی طرح ہوتی ہے۔ان معنوں کے رُو سے اس درخت کے پاس نہ جائو کے یہ معنے ہوں گے کہ جس طرح اوپر بعض اچھی باتوں کا ذکر تھا ان کے مدِّمقابل کاموں سے اللہ تعالیٰ نے آدم کو منع فرمایا اور چونکہ اس اچھے نظام کو جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو دیا تھا جنت یعنی باغ سے مشابہت دی تھی اس نظام کے خلاف جو امور تھے انہیں بھی درخت کے نام سے یاد کیا گیا اور فرمایا کہ جہاں اس جنت میں تم کو رہنے کا حکم ہے وہاں اس کے خلاف امور سے بچنے کی بھی تاکید ہے تا وہ جنت ضائع نہ ہو جائے۔ان معنوں کے رو سے آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ بعض باریک امور میں آدم علیہ السلام کو غلطی بھی لگ سکتی تھی اور کوئی دوسرا آدمی انہیں دھوکا بھی دے سکتا تھا۔شجرۂ ممنوعہ سے مراد ابلیس اور اس کی ذرّیت گو شجرہ سے مراد تمام وہ بدیاں ہو سکتی ہیں جن سے آدم علیہ السلام کو منع کیا گیا تھا مگر اس آیت کے مضمون کے لحاظ سے خصوصیت سے یہ امر اس شجرۂ ممنوعہ میں داخل ہو گا کہ ابلیس اور اس کی ذریت سے بچ کر رہیں کیونکہ اس نے آدم اور ان کی اولاد کو گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی تھی چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَقُلْنَا يٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى (طٰہٰ :۱۱۸) یعنی ہم نے کہا کہ اے آدم! یہ ابلیس تیرا اور تیری بیوی یا ساتھیوں کا دشمن ہے پس اس سے بچتے رہیو ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکال دے تو تم تکلیف میں پڑو۔اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم کہ ابلیس سے بچتے رہو اس شجرہ کی ایک ضروری شاخ تھی جس کے قریب نہ جانے کا آدم کو حکم دیاگیا تھا۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ سلسلہ نسب کو بھی شجرہ کہتے ہیں تو اس موقع پر شجرہ کے لفظ کا استعمال نہایت لطیف معلوم ہوتا ہے کیونکہ ابلیس سے بچنے کا حکم جب دیا گیا تو اس کی ذرّیت یعنی اس کے اتباع اس حکم میں شامل تھے۔یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آدم اور اللہ تعالیٰ کی گفتگو عام انسانی بول چال کی طرح نہیں تھی وہ لازماً اسی طرح ہوئی ہو گی جس طرح سب انبیاء کے ساتھ خدا تعالیٰ کی گفتگو ہوتی ہے یعنی الہام اور وحی کے ذریعہ سے اور الہام اور وحی میں استعارہ اور مجاز اور تمثیل کا استعمال کثرت سے پایا جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام جمیل و حسین ہوتا ہے اور