تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 491
اور انگور ہے اور نہ نیک و بد کی شناخت ہے تو پھر اس درخت سے کیا مراد ہے جس کے پاس جانے سے آدم علیہ السلام کو روکا گیا؟ قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کا پھل کھانے سے آدم علیہ السلام پر ان کا ننگ ظاہر ہو گیا پس معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ درخت کا لفظ استعارتاً استعمال ہوا ہے کیونکہ دنیا کے پردہ پر کوئی ایسا درخت نہیں جس کا پھل کھانے سے انسان پر اس کا ننگ ظاہر ہوتا ہو۔دوسرے ہم دیکھتے ہیں کہ نہ اسلامی شریعت میں اور نہ کسی قدیم شریعت میں کوئی درخت ایسا ملتا ہے جس کے پھل کا استعمال شرعاً ممنوع ہو تو یہ امر اس امر کے لئے مزید شہادت ہے کہ شجرہ سے مراد اس جگہ درخت نہیں بلکہ استعارۃً کسی اور چیز کا نام درخت رکھا گیا ہے۔تیسرے قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس درخت کے قریب جانے سے آدم اور اس کی بیوی یا اس کے ساتھی ظالم ہو جائیں گے یہ امر بھی ظاہر کرتا ہے کہ درخت کا لفظ اس جگہ استعارۃً استعمال ہوا ہے کیونکہ اگر کوئی ممنوع درخت ہوتا تو اس کے پھل کے استعمال سے وہ گنہگار تو ہو سکتے تھے ظالم نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ ظلم کا لفظ یا تو شرک کے معنوں میں قرآنِ کریم میں استعمال ہوا ہے یا پھر دوسروں کے حقوق کے َتلف کرنے کے معنوں میں۔چوتھے ایک طرف تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک خاص درخت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کر کے آدم کو منع فرمایا کہ اس درخت کے قریب نہ جانا۔دوسری طرف فرماتا ہے کہ شیطان کے بہکانے پر انہو ںنے اس درخت کا پھل کھا لیا۔اب اگر یہ ممنوع چیز ظاہری درخت ہوتا تو یہ قصور آدم کا دیدہ دانستہ ہو سکتا تھا۔ایک معیّن درخت جس سے منع کیا گیا تھا اس کا پھل کھانا کسی صورت میں غلطی کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔لیکن تیسری طرف ہم قرآن کریم میں یہ لکھا ہوا دیکھتے ہیں فَنَسِیَ (طٰہٰ :۱۱۶) آدم نے اس پھل کو بھول کر کھایا تھا جان بوجھ کر نہیں کھایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درخت سے مراد کوئی ظاہری درخت نہ تھا بلکہ کوئی اور چیز تھی جس کے بارہ میں غلطی لگنے کا امکان ہو سکتا ہے اور یہ چیز معنوی درخت ہی ہو سکتی ہے مثلاً ظلم کا درخت کہ اگر اس کے قریب جانے سے منع کیا جائے تو یہ کوئی ایسا معین حکم نہ ہو گا جس میں غلطی نہ لگ سکے یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کو ظلم سے منع کیا جائے اور وہ اس سے بچنا بھی چاہے لیکن اس سے کوئی ایسا فعل سر زد ہو جائے جو ہو تو ظلم لیکن وہ شخص اسے ظلم نہ سمجھے۔غرض ان سب امور سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس چیز سے آدم علیہ السلام کو روکا گیا تھا اسے استعارۃً شجر کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے ورنہ وہ تھی کچھ اور۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں شجرہ کا لفظ کسی اور معنو ںمیںبھی استعمال ہوا ہے یا نہیں یا یہ کہ استعارۃً کسی اور چیز کو بھی شجرہ کہا گیا ہے یا نہیں؟