تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 477

کرنے لگ جاتے ہیں (۲) دوسری وجہ اِسْتَکْبَرَ کے ان معنوں سے بتائی ہے جو تکبر کرنے کے ہیں۔ابلیس نے اس وجہ سے آدم کی فرمانبرداری سے انکار کیا کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا اور آدم کی اطاعت میں اپنی بڑائی کے کھوئے جانے کا خطرہ محسوس کرتا تھا۔قرآن کریم میں دوسری جگہ آتا ہے کہ ابلیس نے آدم کی فرمانبرداری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ (الاعراف :۱۳ و صٓ :۷۷) مَیں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے اسے تو پانی ملی ہوئی مٹی سے بنایا ہے اور مجھے آگ سے بنایا ہے یعنی یہ تو گیلی مٹی کی طرح غلامانہ فطرت رکھتا ہے جس سانچے میں چاہو اسے ڈھال لو مگر میں تو آگ ہوں کسی کی بات مان نہیں سکتا۔آزاد مزاج رکھتا ہوں۔ایسے غلام مزاج والے کی فرمانبرداری کس طرح کر سکتا ہوں۔صداقت کے انکار کی یہ دوسری وجہ بھی عام ہے۔صداقت کے ساتھ جو انکسار اور فروتنی انسان کی طبیعت میں پیدا ہو جاتی ہے اسے صداقت کے دشمن حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ملک و ملت کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں اور ایسے لوگوں کو قوم کا دشمن اور ملک کا غدّار خیال کرتے ہیں اور اپنی شورش پسند اور شریر طبیعت پر فخر کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس جارحانہ عادت سے وہ ملک اور قوم کو اعلیٰ مقام پر لے جائیں گے اور یہ خیال نہیں کرتے کہ حقیقی ترقی استقلال اور قربانی اور پابندیِ ٔ نظام سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ شورش اور فساد سے کہ وہ عارضی طور پر جاذبِ توجہ ہوتا ہے مستقل فوائد کا موجب نہیں ہو سکتا۔استکبار کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے اصل روک یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرداری کھوئے جانے سے ڈرتے ہیں۔قوم کا فائدہ اور دنیا کا نفع ان کے سامنے نہیں ہوتا۔(۳) تیسری وجہ استکبار کے ان معنوں سے بتائی ہے جو بڑا سمجھنے کے ہیں جیسا کہحَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے۔استکبار کے ایک معنی تکبر اور خود پسندی ہیں اور دوسرے کسی چیز کو بڑا سمجھنے کے ہیں۔قرآن کریم میں یہ لفظ ان معنوںمیں بھی استعمال ہوا ہے فرماتا ہے۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِيْرًا (الفرقان :۲۲) یعنی جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعاوی کو سن کر کہا کہ اگر فرشتے اُترتے ہیں تو ہم پر کیوں نہیں اُترتے اور اگر خدا تعالیٰ کو کوئی دیکھ سکتا ہے تو ہمیں خدا تعالیٰ کیوں نظر نہیں آتا؟ بات یہ ہے کہ یہ اپنے دلو ںمیں ان دونوں باتوںکو بہت بڑا اور ناممکن سمجھتے ہیں اور شرارتوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔یہ تیسری وجہ بھی صداقتوں کے انکار میں بہت بڑا دخل رکھتی ہے۔منہ سے تو مخالف یہ کہتے ہیں کہ انبیاء جھوٹ