تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 470
ہونا چاہتی ہیں اور اس کی صفات کا جو تقاضا ہے اسے بھی بہتر طور پر جانتا ہے۔فرشتوں کے ظاہرکرنے اور چھپانے کا مطلب وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ سے یہ مراد نہیں کہ فرشتوں کے دلوں میں کوئی ایسا اعتراض تھا جسے وہ چھپاتے تھے اور منہ سے کچھ اور کہتے تھے کیونکہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے فرشتے گناہ سے پاک ہیں وہ اس قسم کا فعل کر ہی نہیں سکتے۔اس جملہ کا صرف یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان قوتوں کا بھی علم ہے جو فرشتوں سے ظاہر ہوتی ہیں اور ان کا بھی جو ان کے ذریعہ سے ظاہر نہیں ہو سکتیں۔حَلِّ لُغَات میں کَتَمَکے معنوں میںبتایا جا چکا ہے کہ کَتَمَ کے معنے کبھی روک بننے اور معذور ہونے کے بھی ہوتے ہیں اور یہی معنے اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کس حد تک تم صفات الٰہیہ کو ظاہر کرنے پر قادر ہو اور کس حد تک ان کے اظہار سے قاصر ہو۔اس لئے میری صفاتِ کاملہ نے چاہا کہ وہ ایک ایسا وجود بھی کھڑا کرے جو خدا تعالیٰ کی تمام صفات کو ظاہر کر سکنے کی مقدرت رکھتا ہو۔وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ١ؕ اور(اس وقت کو بھی یاد کرو ) جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا آدم کی فرمانبرداری کرو۔اس پر انہوں نے تو اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١ٞۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۳۵ فرمانبرداری کی مگر ابلیس (نے نہ کی۔ابلیس) نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سےہو گیا۔حَلّ لُغَات۔قُلْنَا۔قُلْنَا قَالَ سے متکلم مع الغیر کا صیغہ ہے اور قَالَکے لئے دیکھو حل لغات سورۃ البقرۃ آیت۳۱۔اُسْجُدُوْا۔اُسْجُدُوْا امر جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اَلسُّجُوْدُ جو (سَجَدَ کا مصدر ہے) کے معنے ہیں اَلتَّذَلُّلُ عاجزی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا۔وَقَوْلُہٗ اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ، قِیْلَ اُمِرُوْا بِالتَّذَلُّلِ لَہٗ وَالْقِیَامِ بِمَصَالِحِہٖ وَ مَصَالِحِ اَوْلَادِہٖ یعنی آیت اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ الخ میں فرشتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آدم کی فرمانبرداری کریں اور اس کے ماتحت چلیں (یعنی اصلاح کا وہ کام جو آدم دنیا میں کریںگے اس میں اس کی مدد کریں اور اس کی قبولیت لوگوں میں پھیلائیں) اور اس کی مدد کریں اور اس کی اولاد کے لئے ممدّ او رمعاون بنیں اَوِ اسْجُدُوْالِاَجَلِ خَلْقِ اٰدَمَ نیز اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَکے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ آدم کی پیدائش کی وجہ سے اللہ کے حضور