تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 469

نسل میں ہونے والے تھے بیان کرے تاکہ وہ حقیقت جو علمی طور پر ظاہر تھی عملی طور پر بھی ظاہر ہو جائے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ فرشتوں یا آدم میں واقعی کوئی ایسا مکالمہ ہوا بلکہ عربی محاورہ کے مطابق ایک حقیقت جو ظاہر کی جائے اسے مکالمہ کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔عربی زبان کا شاعر را جز کہتا ہے اِمْتَـلَا ءَ الْحَوْضُ وَقَالَ قَطْنِیْ حوض بھر گیا اور اس نے کہا کہ بس بس میں بھر گیا ہوں۔اس سے یہ مراد نہیں کہ حوض بھر گیا تو چیخ اُٹھا کہ بس کرو بلکہ مراد یہ ہے کہ حوض نے بزبان حال ایسا کہا (فِقہُ اللغۃ لِلثّعالبی فصل فی افاضة الفعل الی ما لیس بفاعل علی الحقیقة) اسی طرح ایک اور عرب شاعر کہتا ہے ع قَالَتْ لَہُ الْعَیْنَانِ سَمْعًا وَ طَاعَۃً (لسان) آنکھوں نے اس سے کہا کہ ہم نے آپ کی بات سنی اور ہم فرمانبرداری کریں گی۔دوسری زبانوں میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے۔اُردو کے مشہور شاعر جلال الدین لکھنوی جن سے بچپن میں میں نے بھی اصلاح لی تھی کہتے ہیں ؎ حکم دل کا ہے لگی آ کے بجھاؤ میری عرض کرتے ہیں یہ آنسو کہ جناب آنکھوں سے اس شعر کا بھی یہی مطلب ہے کہ دل کے درد کا نتیجہ آنکھو ںسے آنسوئوں کا بہنا ہے پس کبھی قول کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور مراد صرف یہ ہوتی ہے کہ زبان حال سے یہ امر ظاہر ہوا اسی طرح اس جگہ یہ ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے ایسا کہا ہو بلکہ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آدم علیہ السلام نے ان صفاتِ الٰہیہ کا اظہار کرنا شروع کیا جو ان کی نسل سے ظاہر ہونے والی تھیں اور اس طرح عملی طور پر ملائکہ پر انسان کی روحانی ترقیات کی حقیقت کھل گئی اور آدم علیہ السلام کو تعلیم دینے کے بھی یہ معنی نہیں کہ بالمشافہ بٹھا کر درس دیا گیا تھا بلکہ الہام َجلی یا َخفی دونوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ سے یا دونوں سے انہیں صفاتِ الٰہیہ اور ُلغت اور خواصِ اشیاء کا علم بخشا گیا۔فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ یعنی جب آدم علیہ السلام نے ان کمالات کو ظاہر کرنا شروع کیا جو ان کی امت سے عام طو رپر اور ان کی نسل کے کاملین سے خاص طور پر ظاہر ہونے والے تھے تو ملائکہ کو معلوم ہو گیا کہ جس رنگ میں صفاتِ الٰہیہ کو انسان ظاہر کرنے والا ہے اور کوئی وجود ظاہر نہیں کر سکتا۔قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۔اس میں پہلی آیت کے ان الفاظ کی طرف اشارہ ہے کہ قَالَ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اور اسی مضمون کی تشریح کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ زمین کی ضرورتوں کو بھی بہتر طور پر جانتا ہے اور آسمانی فضل کی بارشیں جس طرح زمین پر نازل