تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 465

یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ان الفاظ میں مشورہ کرنے کا کوئی اشارہ تک نہیں اگر مشورہ ہوتا تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ اے فرشتو! بتائو کہ میں زمین میں کوئی خلیفہ بنائوں یا نہ بنائوں؟ مگر اس قسم کا کوئی جملہ نہ اس جگہ ہے نہ قرآن کریم میں کسی اور جگہ ہے پس جب مشور ہ لیا ہی نہیں گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے جن کو علم تھا ہی نہیں مشورہ کیوں لیا اور اگر مشورہ لیا تھا تو ان کے مشورہ پر اعتراض کیسا؟ (۲) فرشتوں نے جو کچھ کہا ہے جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں بتایا جا چکا ہے اس میں ہر گز یہ کوئی ذکر نہیں کہ ہماری موجودگی میں کسی اور خلیفہ کی کیا ضرورت ہے؟ اور وہ ایسا کہہ بھی کب سکتے تھے جبکہ زمین پر خلیفہ بنانے کا ذکر تھا نہ کہ آسمان پر۔فرشتوں نے جو کچھ کہا اس کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ وہ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس نئے نظام کی جو دنیا پر قائم کیا جانے والا ہے جبکہ اس کے ساتھ خونریزی اور فساد کا امکان بھی موجود ہے کیا ضرورت ہے پس ان کا سوال حقیقت کو سمجھنے کے لئے تھا نہ کہ خدا تعالیٰ پر اعتراض کے طور پر یا اپنے آپ کو خلافت کا مستحق ثابت کرنے کے لئے۔اب ان کے اس سوال کا صحیح جواب دو ہی طرح ہو سکتا تھا (۱) یا تو انہیں یہ بتایا جاتا کہ خلیفہ کے قیام کے بعد کوئی خونریزی یا فساد نہ ہو گا (۲) یا یہ بتایا جاتا کہ خونریزی اور فساد تو بیشک ہو گا لیکن اس کے باوجود یہ نظام ضروری ہے اور اس کے فوائد اس کے نقصانوں سے زائد ہیں چونکہ خلافت انسانیہ کے نظام کے متعلق یہی دوسرا جواب صحیح اور درست تھا اللہ تعالیٰ نے اسی جواب کو ملائکہ کے سامنے پیش کیا ہے۔اس نے یہ نہیں کہا کہ خلافت انسانیہ کے ساتھ خونریزی اور فساد نہیں ہو گا بلکہ یہ بتایا ہے کہ گو اس نظام کی وجہ سے کچھ لوگ خونریزی اور فساد کے مجرم ہوں گے لیکن اس کے نتیجہ میں ایسے وجودوں کا بھی ظہور ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات کے حامل ہوں گے اور خدا تعالیٰ کے مظہر ہوں گے اور ایسے وجودوں کو پیدا کرنا ان ناقص وجودوں کی موجودگی کے باوجود جو انسانوں میں سے ظاہر ہوں گے صفاتِ الٰہیہ کے ظہور کے لئے ضروری ہے اور نظامِ عالم کے لئے مفید۔یہ جواب بھی دو طرح دیا جا سکتا تھا (۱) فلسفیانہ رنگ میں دلائل کے ساتھ (۲) عملی رنگ میں پہلے خلیفہ کی قوتوں کا اظہار کر کے اور اس کی نسل کے کاملین کو کشفی رنگ میں فرشتوں کو دکھا کر۔ظاہر ہے کہ یہ دوسرا طریق زیادہ اعلیٰ اور زیادہ مؤثر ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے اس طریق کو اختیار کیا اور آدم کو صفاتِ الٰہیہ کی تعلیم دی اور اس نے ان پر عمل کر کے بتا دیا کہ صفاتِ الٰہیہ کا کامل ظہور بغیر ایسے وجود کے جس میں خیر اور شر دونوں قسم کی طاقتیں موجود ہوں اور اسے دونوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کی مقدرت دی جائے اور پھر وہ محبت الٰہی کے جذبہ سے متاثر ہو کر خیر کی طاقتوں کو اپنے اندر نشوونما دے کر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے ممکن نہیں۔پس چونکہ صفات الٰہیہ کے کامل ظہور کے لئے ایسے وجود کا ہونا جسے خیر و شر کی تعلیم دے کر اپنے لئے