تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 464

اَلْحَکِیْمُ۔اَلْحَکِیْمُ اَلْعَالِمُ۔عالم۔صَاحِبُ الْحِکْمَۃِ۔حکمت والا۔اَلْمُتْقِنُ لِلْاُ مُوْرِ۔تمام کامو ںکو اچھی طرح کرنے والا جس کے کامو ںکو کوئی بگاڑ نہ سکے۔(اقرب) حِکْمۃٌ کے معنے ہیں عدل۔علم۔حلم۔یعنی دانائی۔مَایَمْنَعُ مِنَ الْجِہَالَۃِ یعنی ہر وہ بات جو جہالت سے روکے۔کُلُّ کَلَامٍ مُوَافِقٍ لِلْحَقِّ۔ہر وہ کلام جو سچائی کے موافق ہو۔بعض کے نزدیک اس کے معنے وَضْعُ الشَّیْ ءِ فِیْ مَوْضِعِہٖ کے ہیں۔یعنی ہر امر کو اس کے مناسبِ حال طور پر استعمال کرنا۔نیز اس کے ایک معنی ہیں صَوَابُ الْاَمْرِ وَسِدَادُہٗ بات کی حقیقت او راس کا مغز۔(اقرب) حَکَمَ جو حَکِیْمٌ کا مادہ ہے اس کے معنے ہیں۔مَنَعَ مَنْعًا لِاِ صْلَاحٍ۔اصلاح کی خاطر کسی کو کسی کام سے روکنا۔اور اسی وجہ سے جانور کی لگام کو حَکَمَۃٌ کہتے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے ع أَ بَنِیْ حَنِیْفَۃَ اَحْکِمُوْا سُفَہَائَکُمْ کہ اے بنی! حنیفہ اپنے بیوقوفوں کو سمجھائو اور بُری باتوں سے روکو۔(مفردات) تفسیر۔ملائکہ نے ان وجودوں کے دکھلائے جانے پر کہا کہ اے اللہ! تو پاک ہے ہمیں تو اسی قدر علم ہے جس قدر تو نے ہمیں دیا ہے۔تو بہت جاننے والا اور حکمت والا خدا ہے یعنی آدم کی خلافت کا مسئلہ ہماری سمجھ میں نہ آیا تھا اور ہمارا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے خونریزی اور فساد ہو گا مگر اب اس اظہار سے کہ گو اس کے خلیفہ ہونے پر خونریزی اور فساد ہو گا مگر اس کی ذمہ واری آدم پر نہ ہو گی بلکہ جس مقام پر آدم کو کھڑا کیا گیا ہے اس کا یہ بھی ایک لازمہ ہے جس کا باعث بیرونی دشمن یا اندرونی کمزور وجود ہوتے ہیں نہ کہ خلیفہ اور اس کے ساتھی۔مگر ہم اب سمجھ گئے ہیں کہ اس حالت کا پیدا کرنا حکمت سے خالی نہیں اور یہ فعل تیرے حکیم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔اس اعتراض کا جواب کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو سکھایا تو وہ سیکھ گیا فرشتوں کو نہ سکھایا وہ نہ سیکھے۔پھر اس میں فرشتوں کا کیا قصور؟ بعض لوگ غلطی سے یہ اعتراض کرتے ہیںکہ خدا تعالیٰ نے آدم کو سکھایا تو وہ سیکھ گیا فرشتوں کو نہ سکھایا وہ نہ سیکھے پھر اس میں فرشتوں کا کیا قصور۔اور ان کی بات کو غلط کہنا کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ یہ اعتراض صرف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ پہلی آیت جس میں خلافت کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان ہے اس کے یہ معنے سمجھے گئے ہیں کہ (۱) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے مشورہ کیا (۲) فرشتوں نے جواب میں کہا کہ ہم جو تیری تسبیح کرنے والے موجود ہیں ہماری موجودگی میں کسی اور خلیفہ کی کیا ضرورت ہے کیا ہم کافی نہیں۔لیکن یہ دونوں نتیجے جو اخذ کئے گئے ہیں غلط ہیں۔(۱) اس آیت میں کسی مشورہ کا ذکر نہیں۔آیت کے الفاظ