تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 455

ہے مگر جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے یہ معنی سب معنوں سے زیادہ بادلیل ہیں۔ان معنوں کی تعیین اس امر سے بھی ہو جاتی ہے کہ اگلی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اسماء آدم کو سکھائے گئے تھے فرشتے ان سے پوری طرح واقف نہ تھے اور وہ اسماء جن سے فرشتے فرداً فرداً کلی طور پر واقف نہیں صفات الٰہیہ ہی ہیں کیونکہ ان کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (النحل :۵۱) انہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہی کرتے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں کرتے اور کر نہیں سکتے۔اور جب فرشتے وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں کہا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی بخشش اور خدا تعالیٰ کی ستاّری اور خدا تعالیٰ کی قہاّری کی صفات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔انسان ہی ہے جسے خدا تعالیٰ نے علم دے کر مقدرت دی ہے کہ وہ جو راستہ چاہے اپنے لئے اختیار کرے اور خطا اور نسیان کا اسے محل بنایا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے علم کے بعد کبھی نافرمانی کرتا ہے اور کبھی توبہ اور کبھی نسیان کا مرتکب ہوتا ہے اور کبھی پھر صحیح راستہ کی طرف واپس آتا ہے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کی بخشش اور اس کی راہنمائی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور کبھی نافرمانی پر اصرار کر کے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتا ہے۔آیت وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا میں کُلَّھَا کی قید کے معنی پس صفاتِ الٰہیہ کا کامل علم انسان کو ہی حاصل ہوتا ہے ملاـئکہ کو نہیں۔وہ صرف اس صفت کوہی جانتے ہیں جو ان سے متعلق ہے اسی لئے اس آیت میں کُلَّہَا کا لفظ رکھ کر اس پر زور دیا ہے کہ گو ملائکہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والی ایک صفت یا ایک سے زیادہ صفات سے تو واقف ہوتے ہیں مگر انسان تمام صفات الٰہیہ سے واقف ہوتا ہے۔وہ رحیم ہے یہ بھی رحیم بننے کی قابلیت رکھتا ہے، وہ غَفَّار ہے یہ بھی غفار بننے کی قابلیت رکھتا ہے، وہ قَہّار ہے یہ بھی قَہّاربننے کی قابلیت رکھتا ہے، وہ جَبَّار ہے یہ بھی جَبَّار بننے کی قابلیت رکھتا ہے، وہ شکُورہے یہ بھی شکور بننے کی قابلیت رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ فرشتے ان سب صفات کے حامل نہیں ہو سکتے۔مثلاً موت کے فرشتے ہیں ان کا کام صرف جان نکالنا ہے وہ کسی پر رحم نہیں کر سکتے۔رزق پر مامور فرشتے کسی کی جان نہیں نکال سکتے۔کلامِ الٰہی لانے والے فرشتے کوئی اور کام نہیں کر سکتے۔مگر ایک کامل انسان اپنے اپنے موقع پر جلاتا بھی ہے مارتا بھی ہے بخشتا بھی ہے اور سزا بھی دیتا ہے پس انسان تمام صفاتِ الٰہیہ کا حامل ہے مگر فرشتے صرف ایک یا چند صفات کے حامل ہیں اس لئے انسان کو صفات الٰہیہ کا جو کامل علم دیا گیا ہے وہ فرشتوں کو نہیں دیا گیا اور اس کی بنیاد آدم کے ذریعہ سے اور ان کے وقت سے رکھی گئی ہے ان سے پہلے کا انسان چونکہ کامل نہ تھا وہ یہ علم نہ رکھتا تھا اور تمام صفاتِ الٰہیہ سے واقف نہ کیا گیا تھا۔آیت عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ سے مراد خدا تعالیٰ کا آدم کو زبان کے اصول سکھانا جیسا کہ پہلے اشارہ