تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 439

اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو ہم کو تندرست بچہ عطا کرے تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں تندرست بچہ عطا فرمایا تو انہوں نے اس کے متعلق شرک کرنا شروع کر دیا یعنی یہ کہنے لگے کہ یہ بچہ تو ہمیں فلاں بُت یا دیوی کی بدولت ملا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ان کے شرک سے بہت بلند ہے۔اس آیت پر غور کرو کہ یہ کسی صورت میں بھی آدم اور ان کی بیوی پر چسپاں نہیں ہوتی کیونکہ آدم علیہ السلام تو خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور اس نفس واحدہ کی نسبت اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ اولاد ہونے پر مشرک ہو گیا تھا اور اس کی بیوی بھی مشرک ہو گئی تھی۔پس حق یہ ہے کہ نفس واحدہ سے اس جگہ پہلا بشر مراد نہیں اور نہ آدم علیہ السلام بلکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ ایک ایک انسان سے بڑی بڑی اقوام پیدا ہو جاتی ہیں اور اولاد اپنے ماں باپ کے اثر کو قبول کرکے وہ کافر ہوں تو کافر ،مشرک ہوں تو مشرک اور مؤحد ہوں تو مؤحد ہو جاتی ہے پس شادی کرتے ہوئے انسان کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے اور اپنی اولاد کی تربیت کا خاص خیال رکھنا چاہیے تا یہ نہ ہو کہ ماں باپ کی غلطیاں اولاد میں پیدا ہو کر ہزاروں لاکھوں انسان گند میں مبتلا ہو جائیں۔یہ جو فرمایا وَجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اس قسم سے اس کا جوڑا بنایا یعنی بیوی اور میاں ایک ہی جنس میں سے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں نہ یہ کہ بیوی میاں کی پسلی سے پیدا کی جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنے کئے جائیں تو ماننا پڑے گا کہ جس قدر مشرک لوگ ہوتے ہیں ان کی بیویاں ان کی پسلیوں سے پیدا کی جاتی ہیں کیونکہ یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ اس آیت میں پہلا بشر مراد نہیں اور جب پہلا بشر یہاں مراد نہیں تو ماننا پڑے گا کہ ہر مرد کی بیوی اس کی پسلی سے پیدا کی جاتی ہے جو بالبداہت باطل ہے (اس مضمون کو پوری تفصیل کے ساتھ سورۂ نساء کی آیت کے نیچے انشاء اللہ بیان کیا جائے گا) عورت کے پسلی سے پیدا ہونے کا مطلب اب رہا یہ سوال کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس سے تو ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آدم اکیلے پیدا کئے گئے تھے اور ان سے پہلے کوئی بشر نہ تھا پھر جب آدم کی پسلی سے عورت پیدا ہوئی تو اس سے انسانی نسل چلی۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ حدیث جس سے بعض لوگ دھوکا کھاتے ہیں ان الفاظ میں ہے۔’’ اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآءِ خَیْرًا فَاِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ‘‘ (مسلم کتاب الرضاع باب الوصیّة بالنّسآء) یعنی عورتوں کے متعلق نیک سلوک کرنے کے بارہ میں میری نصیحت کو قبول کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔اس حدیث کی پوری تشریح تو میں سورۂ نساء کی آیت کے ماتحت ہی لکھوں گا اس جگہ کے مناسب حال صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ اس حدیث میں آدم کی بیوی کا ذکر نہیں بلکہ عورت کا ذکر ہے