تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 438

آخری آدم ہے او ریہ بھی کہ آدم کا لفظ کبھی بطور صفت کے استعمال ہوتا ہے یعنی جدِّ اکبر کے معنوں میں اور ضروری نہیں کہ اس سے مراد وہی آدم اوّل ہو جو الہام کے لحاظ سے سب سے اوّل تھا۔اس کشف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بشر کی نسل بہت قدیم زمانہ سے چلی آتی ہے اور یہ جو سات ہزار سال کا دور اس دنیا کی پیدائش کے متعلق احادیث میں مذکور ہے اس سے مراد صرف آخری آدم کا دور ہے نہ کہ دورِ بشر بحیثیت مجموعی۔غرض اوپر کی شہادتوں سے ثابت ہے کہ مجھ سے پہلے ایسے صاحب ِ کشف لوگوں نے جن کی رائے ہی قرآن کریم کی تفسیر کے بارے میں ماننے کے قابل ہے اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ نسلِ انسانی ایک آدم سے نہیں چلی بلکہ متعدد آدم پہلے گزر چکے ہیں اور یہ کہ آدم مذکور جس کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے ان آدموں میں سے ایک فرد ہے نہ کہ صرف ایک ہی فرد۔انسانوں کو نفس واحد سے پیدا کئے جانے کا مطلب اس موقع پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اگر یہ بات درست ہے کہ آدم مذکور سے پہلے بھی بشر کی نسل موجود تھی اور ان کی نطفہ سے پیدائش ہو رہی تھی تو پھر قرآنِ کریم میں یہ کیوں فرماتا ہے کہ تم کو ایک جوڑے سے پیدا کیا گیا ہے اور احادیث میںیہ کیوں آتا ہے کہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس امر کا ذکر مندرجہ ذیل آیات میں آتا ہے کہ سورۂ نساء رکوع ۱ آیت۲ سورۂ اعراف رکوع ۲۴آیت۱۹۰۔اور سورۂ زمر رکوع۱ آیت ۷ ،ان میں سے سورۂ نساء میں تو یہ لفظ ہیں خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا ا س نفس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور سورۂ اعراف میں یہ الفاظ ہیں جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا اس نفس سے اس کا جوڑا بنایا اور سورۂ زمر میں یہ الفاظ ہیں ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَھَا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ان تینوں حوالوں میں آدم کا کہیں ذکر نہیں صرف یہ ذکر ہے کہ تم کو ہم نے ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ان تینوں آیات میں سے جو ہم معنی ہیں زیادہ صراحت سورہ اعراف کی آیات میں ہے وہاں فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۔فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ(الاعراف :۱۹۰،۱۹۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا ہے تاکہ اس کی طرف مائل ہو کر تسکین حاصل کرے پھر جب اس نفسِ واحدہ نے اپنی بیوی سے مباشرت کی تو وہ ایک ہلکا سا حمل لے کر جدا ہوئی پھر جب وہ حمل نمایاں ہوا تو اس نفسِ واحدہ اور اسکی بیوی نے