تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 38

ایک معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیکی کے وقت کا اور گناہ کے وقت کا مالک ہے اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا پر دو دَور آتے ہیں۔ایک دور تو وہ ہوتا ہے جبکہ نیکی اور بدی یکساں طور پر دنیا میں پائی جاتی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کا عام قانون دنیا میں جاری رہتا ہے لیکن ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ دُنیا میں گناہ ہی گناہ پھیل جاتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ مالک کی حیثیت سے ظاہر ہوتا ہے اور اپنے باغ کی اصلاح کرتا ہے اور نبی مبعوث فرماتا ہے اور اس کے ذریعہ سے ایک قوم دنیا میں ایسی قائم ہو جاتی ہے جو نیکی کے مقام پر اس طرح قائم ہوتی ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ گویا وہ سب کی سب نیک ہے۔اس وقت بھی اللہ تعالیٰ اپنی خاص تقدیروں کے ذریعہ اس قوم کی تائید کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ قوم اپنے اس معیار کو کھو دیتی ہے اور اس میں نیکی بدی کی متوازی تحریکیں جا ری ہو جاتی ہیں۔تب اللہ تعالیٰ اپنی خاص تقدیر کو واپس کر لیتا ہے اور عام قانونِ قدرت کے ماتحت اس سے معاملہ کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ قوم ایک وقت میں جاکر بالکل خراب ہو جاتی ہے تب سنت اللہ کے ماتحت پھر اللہ تعالیٰ مالکیت کی صفت کو ظاہر کرتا ہے۔پھر نبی مبعوث ہوتا ہے پھر گناہ کا قلع قمع کیا جاتا ہے پھر ایک پاکوں کی جماعت بنائی جاتی ہے اور اس تمام عرصہ میں قدرت خاص یعنی مالکانہ قدرت اور تصرّف کا ظہور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ پھر وہ قوم نیکی کے اعلیٰ معیار سے نیچے گر جاتی ہے او رپھر وہی پہلا سا دور شروع ہو جاتا ہے۔ایک معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اطاعت کے وقت کا مالک ہے یعنی وہی قانون خاص جس کا ذکر اوپر ہوا ہے اور جو اقوام کے متعلق جاری ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ خاص افراد کے لئے بھی جاری کرتا ہے یعنی جب کسی شخص کی زندگی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت میں گزرنے لگتی ہے تو اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ خاص قدرت کا اظہار کرتا ہے اور وہ انسان عام انسانوں کی طرح نہیں رہتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے خاص قدرت کا اظہار کرتا ہے۔ایک معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اہم حالتوںکے وقت کا مالک ہے۔اس سے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دُنیامیں ہر کام ایک زنجیر سے مشابہت رکھتا ہے یعنی منفرد نہیں ہوتا بلکہ اس کی بہت سی کڑیاں ہوتی ہیں۔جب انسان بیمار ہوتا ہے تو اس کی بیماری اس دن کی کسی غلطی کے نتیجہ میں نہیں ہوتی۔نہ تندرستی اس دن کی ورزش یا غذا کی وجہ سے ہوتی ہے۔پس انسان کے اعمال دو نتیجے پیدا کرتے ہیں۔ایک نتیجہ تو عارضی اور وقتی ہوتا ہے۔اور ایک نتیجہ آخری او رمستقل ہوتا ہے۔ایک بے احتیاط آدمی آنکھوں کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کی آنکھیں دُکھنے آ جاتی ہیں مگر علاج سے اچھی ہو جاتی ہیں۔پھر بے احتیاطی کرتا ہے پھر دکھنے آ جاتی ہیں پھر علاج کرتا ہے پھر اچھی ہو جاتی ہیں۔آخر ایک دن نظر جاتی ہی رہتی ہے اور علاج بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ایک محنتی طالب علم سبق یاد کرتا