تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 37

ہونے کے لحاظ سے جہاں وہ رحم کر سکتا ہے وہاں اپنی پیدائش کو گندہ دیکھنا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔گویا امید اور خوف کے خیالات یکساں پیدا کر کے انسان کے اندر چستی او رہمت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔برخلاف مسیحی نجات کی تعلیم کے کہ ایک طرف انصاف کا غلط مفہوم پیش کر کے امید کو توڑ دیا گیا ہے۔دوسری طرف کفارہ کے مسئلہ کو پیش کر کے گناہ پر دلیر کر دیا گیا ہے گویا مسیحی عقیدہ کے دونو ںپہلوئوں نے پاکیزگی کی نہیں بلکہ گناہ کی مدد کی ہے۔حد سے زیادہ مایوسی نے بھی گناہ ہی پیدا کیا ہے اور حد سے زیادہ امید نے بھی گناہ ہی پیدا کیا ہے۔کچھ لوگ تو پاکیزگی سے مایوس ہو کر نیکی کو چھوڑ بیٹھیں گے اور کچھ لوگ کفارہ پر توکّل کر کے گناہ پر دلیر ہو جائیںگے۔انبیاء کے زمانہ میں صفت مالکیت کا خاص ظہور دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ شریعت اور مذہب کے وقت کا مالک ہے۔اس میں ایک لطیف مضمون قانونِ قدرت کے بارہ میں بیان کیاگیا ہے۔عام طور پر خدا تعالیٰ کا معاملہ دُنیا کے ساتھ عام قانونِ قدرت کے ماتحت ہوتا ہے۔لیکن جس زمانہ میں مذہب یا شریعت کی بنیاد رکھی جاتی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ صفت مالکیت کا اظہار کرتا ہے۔یعنی نہ صرف بادشاہت کا ظہور ہوتا ہے جو عام قانون سے تعلق رکھتا ہے بلکہ ان دنوں مالکیت کی صفت کا خاص طور پر ظہور ہوتا ہے یعنی خاص تصرّف سے اللہ تعالیٰ کام لیتا ہے اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی صفات کی باریکیوں سے واقف نہیں بظاہر قانونِ قدرت کو ٹوٹتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ایک بیچارہ اور بے کس وجود دُنیا کے سامنے آ کر دعویٰ پیش کرتا ہے۔سب لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں لیکن باوجود ظاہری سامانوں کے مخالف ہونے کے وہ شخص کامیاب ہو جاتا ہے۔اسی طرح اوربہت سے معاملات میں دعائوں اور معجزات کے ذریعہ سے ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں کہ دنیا انہیں دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے۔در حقیقت ان واقعات کی حکمت یہی ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی روحانی سلسلہ کو چلاتا ہے یا کسی شریعت کی بنیاد قائم کرتا ہے توان ایام میں اپنی ملوکیت کی نہیں بلکہ مالکیت کی صفت کو خاص طور پر ظاہر کرتا ہے۔یعنی عام قانون کی بجائے اپنے خاص قانون کو جو اس کے محبوبوں سے مخصوص ہے ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے اور ایسے واقعات ان دنوں میں ظاہر ہوتے ہیں جو خارق عادت نظر آتے ہیں۔ہر نبی کے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی سنت اسی طرح ظاہر ہوتی چلی آئی ہے۔اور اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی اسی طرح ہو گا۔خارق عادت واقعات سے جو بظاہر قانونِ قدرت کے مخالف نظر آئیں گے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد کرے گا۔اور یہ امر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہ زمانہ قیام شریعت کا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔