تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 425
اور مختلف راستوں پر چلنے کی طاقت رکھتا ہے تمام باقی حیوانوں کی نسل نطفۂ امشاج سے پیدا نہ ہونے کے سبب سے اپنے باپ دادوں کے راستہ پر چلتی ہے اور آج کا بندر وہی طاقتیں رکھتا ہے جو ہزاروں سال پہلے کا بندر رکھتا تھا اور آج کا شیر وہی دماغی حالت رکھتا ہے جو ہزاروں سال پہلے کا شیر رکھتا تھا مگر انسان کی اولاد بوجۂ نطفہ امشاج سے پیدا ہونے کے اپنے آباء سے مختلف ہونے کی طاقت رکھتی ہے اور بالفعل اس کا اظہار کرتی رہتی ہے اور علوم و فنون میں ترقی کرتی جاتی ہے گویا نطفۂ امشاج کے الفاظ سے انسان کے حیوان ناطق ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ انسان جس وقت سے حیوانی جامہ میں ظاہر ہوا ہے اس کا نطفہ اسی وقت سے دوسرے حیوانوں سے مختلف تھا اور اس میں غیر محدود ترقی کا مادہ رکھا گیا تھا۔انسان کے نطفہ امشاج سے پیدا ہونے اور اس کے سمیع و بصیر ہونے کا مطلب یہ آیت بھی اس امر کا بیّن ثبوت ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک انسانی پیدائش شروع سے ہی دوسرے حیوانوں سے مختلف تھی کیونکہ جب سے وہ نطفہ سے پیدا ہونے لگا ہے اس کا بیج نطفۂ امشاج سے بننا شروع ہوا ہے جبکہ دوسرے حیوانوں کا تناسل نطفۂ غیر امشاج سے ہوتا چلا آیا ہے۔ہاں ایک بات ضرور ہے کہ گو انسان کی پیدائش شروع سے ہی نطفۂ امشاج سے ہوئی ہے مگر ابتداء میں وہ بالقوۃ تو نطفۂِ امشاج کی خصوصیات رکھتا تھا مگر بالفعل اس سے نطفۂِ امشاج کی قوتیں ظاہر ہونی شروع نہ ہوئی تھیں بلکہ آہستہ آہستہ ترقی کرنے کے بعد ظہور میں آنے لگیں چنانچہ قرآنِ مجید فرماتا ہے۔فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا (الدہر:۳) یعنی نطفۂ امشاج سے پیدا کرنے کے بعد ایک زمانہ وہ آیا کہ انسان باِلقوّۃ سے باِلفعل بھی انسان بن گیا اور سمیع و بصیر ہو گیا۔سمیع و بصیر سے مراد صرف سننے والا اور دیکھنے والا نہیں ہے بلکہ سمیع بہت سننے والے اور بصیر دیکھنے پر قادر کو کہتے ہیں۔یہ الفاظ حیوانوں کی نسبت استعمال نہیں ہو سکتے ان کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سمیع اور بصیر ہیں بلکہ وہ صرف سننے والے اور دیکھنے والے ہیں سننے اور دیکھنے کے قویٰ ان میں کامل طور پر نہیںپائے جاتے سمیع اور بصیر وہی ہستی کہلا سکتی ہے جس کی سننے اور دیکھنے کی قوت کمال کو پہنچی ہوئی ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی سمیع و بصیر کے الفاظ آتے ہیں مثال کے طور پر قرآن کریم کی یہ آیت پیش کی جا سکتی ہے اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا(النساء:۵۹) اللہ تعالیٰ یقیناً سمیع اور بصیر تھا اور سمیع و بصیر ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔غرض سمیع و بصیر اس ہستی کی نسبت بولا جاتا ہے جو سننے اور دیکھنے میں کمال رکھتی ہو اور قرآن کریم کے محاورہ میں انسان کو اسی لئے سمیع و بصیر کہا جاتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی