تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 422

کو اسی زمین میں واپس لے جاتا ہے اور ایک دن تم کو اسی میں سے اچھی طرح سے نکالے گا۔ان آیات سے یہ امور ظاہر ہیں (۱) انسانی پیدائش کئی دوروں میں ہوئی ہے کیونکہ فرماتا ہے خَلَقَکُمْ اَطْوَارًا اور طَوْرٌ کے معنی عربی زبان میں اندازہ اور ہیئت اور حال کے ہوتے ہیں۔(اقرب) آسمان اور زمین کی پیدائش سے پہلے انسان کا وجود پس اَطْوَارکے معنے ہوئے کئی حدوں میں سے گزار کر کئی ہئیتوں اور احوال میں بدلتے ہوئے پیدا کیا ہے اندازہ اور حدّ کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر اندازہ اور حدّ میں تم دوسرے اندازہ اور حد سے ممتاز اور جداگانہ حیثیت رکھتے تھے اور ایک حد میں جب تھے تو دوسری حد کی طاقتوں سے محروم تھے اور ہیئت اور حالت کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ مختلف دوروں میں تمہاری شکل مختلف تھی اور مختلف حالتو ںکے ماتحت تم ترقی کر رہے تھے (۲) دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک دَور انسانی پیدائش پر وہ آیا ہے جو آسمان و زمین کی پیدائش سے بھی پہلے تھا کیونکہ اس آیت میں انسانی پیدائش کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک حصہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے بیان کیا ہے اور ایک حصہ آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک حصہ انسانی پیدائش کا اس وقت سے شروع ہے جبکہ ابھی آسمان و زمین بھی اپنی موجودہ شکل میں ظاہر نہ ہوئے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ آسمان و زمین کا مادہ ابھی دُخانی حالت میں تھا اور سمٹ کر جِر م کی شکل میں نہ بنا تھا اس وقت بھی وہ ذرّۂِ حیات کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا جو بعد میں انسان بنا (۳) تیسری بات ان آیات سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب وہ دُخانی مادہ جس سے کائنات بنی سمٹ کر ِجرْم کی شکل میں آ گیا اور آسمان و زمین کے اَجرام تیار ہو گئے تو انسان پر ایک نیا دَور آیا اور وہ زمین سے باہر نمودا رہوا اور جس طرح نباتات کی حالت ہوتی ہے کہ چل پھر نہیں سکتے اور غذا نَمدار جگہ سے لیتے ہیں وہ بھی کمزور تھا اور ابھی حرکت کرنے کے قابل نہ ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ اس نے ایک حرکت کرنے والے مستقل وجود کی شکل اختیار کرنی شروع کی (۴) چوتھی بات جو اس دعویٰ کے ثبوت میں پیش کی گئی ہے یہ ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تواس کا جسم پھر مٹی میں مل جاتا ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اس کی ابتدا مٹی کے اجزاء سے ہی کی گئی تھی ورنہ وہ سڑ کر مٹی نہ بن سکتا پس اس کا مٹی میں مل جانا اور اس کے اجزاء کا مٹی کے اجزاء میں شامل ہو جانا اس کی اصلیت پر ایک دلیل ہے پھر فرماتا ہے کہ اس مٹی میں مل جانے سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ انسان کے تمام اجزاء پھر بے جان ہو جاتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی مقدر کر رکھا ہے کہ اس کی وہ ترقی یافتہ حالت جو مٹی سے بننے کے بعد اس نے حاصل کی تھی ایک مستقل حیثیت قائم رکھتی ہے اور اس حیثیت کو اللہ تعالیٰ کسی وقت پر نمایاں کرے گااور انسان پھر