تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 421

نصف سے اَپسوُ کو قید رکھنے کی جگہ تیار کی اور ِکنگو جو تھیامۃ کا خاوند تھا اس کے خون سے ای آنے انسان بنایا۔زمانہ حال کے فلاسفروں کے نزدیک انسانی پیدائش زمانۂ حال کے فلاسفر سائنسدانوں میں سے ڈارون نے یہ نکتہ پیش کیا ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے تغیرّ کے بعد زندگی کے ذرّہ نے ترقی شروع کی اور مختلف حیوانوں کی شکلوں میں ترقی کرتے ہوئے ایک جانور سے جو موجودہ بندر کے مشابہ تھا انسان بنا۔اس فلسفہ کے ماتحت انسانی پیدائش ذرّۂ ِحیات کی ترقی کی آخری کڑی ہے اور فوری طور پر کوئی انسان پیدا نہیں ہوا۔موجودہ زمانہ کے بعض جرمن اور فرانسیسی فلاسفروں کا نسلِ انسانی کی ابتدا کے متعلق نظریہ موجودہ فلاسفروں میں سے بعض جرمن اور فرانسیسی فلاسفروں کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود ہی ترقی پاتے ہوئے انسان بنا ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ ازلی قانون مختلف تغیرّات کے بعد انسان کی شکل کو پا گیا ہے۔اور انسان اس کے ارتقاء کی آخری معلوم کڑی ہے گویا ان لوگوں نے ہندو اور بابلی عقائد کو سائنس کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔نسل انسانی کی ابتداء کے متعلق مختلف نظریوں کے مقابل ایک نیا قرآنی نظریہ قرآن کریم نے ان سب سے مختلف اور نیا راستہ دنیا کی پیدائش کے راز کو کھولنے کا اختیار کیا ہے قرآنی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ارتقاء کا قانون ضرور رائج ہے روحانی دنیا میں بھی اور مادی دنیا میں بھی۔مادی دنیا بھی ایک لمبے ارتقاء کے بعد کمال کو پہنچی ہے اور روحانی دنیا بھی ایک لمبے ارتقاء کے بعد کمال کو پہنچی ہے مگر قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق یہ اصل ماننے کے قابل نہیں کہ انسان مختلف حیوانوں کی ارتقائی حالت کی آخری کڑی ہے قرآن کریم کے نزدیک انسانی ارتقاء اپنی ذات میں مستقل اور جداگانہ ہے اور حیوانی ترقی کا اتفاقی مظاہرہ نہیں ہے اس بارہ میں قرآن کریم کی تعلیم سورہ نوح سے ظاہر ہے اس میں اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کا یہ قول نقل فرماتا ہے۔مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا۔وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا۔اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا۔وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا۔وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا۔ثُمَّ يُعِيْدُكُمْ فِيْهَا وَ يُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا (نوح : ۱۴ تا۱۹) یعنی اے لوگو! تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ یقین نہیں رکھتے کہ اس کے سب کام حکمتوں کے مطابق ہوتے ہیں حالانکہ اس نے تم کو متعدد دَوروں میں سے گزار کر پیدا کیا ہے کیا تم نے اس پر غور نہیں کیا کہ کس طرح اُس نے سات آسمان اس طرح بنائے ہیں کہ اُن کے اند رکامل مطابقت پائی جاتی ہے اور ان آسمانوں میں چاند بھی پیدا کیا ہے جو نور والا ہے اور سورج کو بنایا ہے جو روشنی بخشتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے اس طرح اگایا ہے جو اگانے کا حق ہے پھر وہ تم