تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 341

میں قائم ہیں کوئی مطالبہ کسی دوسرے مطالبہ کو منسوخ نہیں کرتا۔اور سب غلطی اس امر سے لگی ہے کہ خیال کر لیا گیا ہے کہ جہاں جہاں مثل طلب کی گئی ہے وہاں صرف فصیح عربی کی مثل طلب کی گئی ہے اور سب آیتو ںمیں ایک ہی مطالبہ ہے حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے ان پانچ سورتوں میں ایک ہی مطالبہ نہیں بلکہ مختلف مطالبے ہیں اور ہر مطالبہ کے مناسب حال پورے قرآن یا بعض قرآن کی مثل طلب کی گئی ہے۔اوپر کی تشریح سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ مثل کا مطالبہ انہی سورتوں تک محدود ہے جن میں اس دعویٰ کو پیش کیا گیا ہے کیونکہ گو ایک جگہ سارے قرآن کی مثل لانے کا اور ایک جگہ دس سورتوں کی مثل لانے کا اور ایک جگہ اِس دعویٰ کی مثل لانے کا مطالبہ ہے جو سورہ طٰہٰ کے شروع میں بیان کیا گیا ہے اور سورہ یونس کا مطالبہ بھی اسی مضمون کے متعلق ہے جو سورہ یونس میں بیان ہوا ہے مگر سورہ بقرہ کا مطالبہ عام ہے کیونکہ سورہ بقرہ کے شروع میں جو مضمون ہے وہ ساری سورتوں میں مشترک ہے۔قرآن کریم کی ہر ایک سورۃ گذشتہ انبیاء کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی ہے۔(دیکھو سورہ فاتحہ میں بسم اللہ کی حل لغت ) اسی طرح سب کی سب سورتیں ریب والی تعلیم سے پاک ہیں اور سب ہی هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ہیں پس اِس سورۃ میں جو مطالبہ ہے وہ باقی ساری سورتوں کے متعلق بھی ہے اور کسی ایک سورۃ کی مثل بھی اگر کوئی ان شرائط کے مطابق لے آئے جو سورہ بقرہ کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور جو سب سورتوں میں پائی جاتی ہیں وہ قرآنی دعویٰ کو غلط ثابت کرنے والا ہو گا مگر ایسی مثل لانی ناممکن ہے اورجو شخص ایسی کوشش بھی کرے گا مُنہ کی کھائے گا۔ایک جاہل شخص نے جو عربی بھی صحیح طور پر نہ لکھ سکتا تھا چند سال ہوئے تمسخر کے رنگ میں قرآن کریم کی مثل پیش کی تھی آج اس کا نام و نشان بھی کہیں باقی نہیں اور قرآن کریم کے پیش کردہ امورمیں سے صرف ایک امر کو لے لیا جائے یعنی هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠کو تو اس کا دعویٰ مثل کا جھوٹا ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا تو ماننے والا دنیا میں کوئی بھی نہیں پھر وہ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ کیونکر ہوئی؟ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ کے الفاظ کتاب کے الہامی ہونے پر بھی دلالت کرتے ہیں اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو الہام کا جھوٹا دعویٰ کرے تباہ کر دیا جاتا ہے کسی زمانہ میں ُمسیلمہ کذّاب نے بھی جھوٹے الہام کا دعویٰ کیا تھا مگر چند ہی سال میں ہلاک ہوا اور اُس کی تباہی نے اور قرآن کریم کے قائم رہنے نے بتا دیا کہ اُس کا پیش کردہ کلام قرآن کریم کی مثل نہ تھا۔امام رازیؒ نے ایک مضحکہ خیز کلام اس کا نقل کیا ہے جو اس نے سورۃ الکوثر کے مقابل پر پیش کیا تھا جو یہ ہے اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْجَمَاھِرَ فَصَلِّ لِرِبِّکَ وَ ھَاجِرْ اِنَّ مُبْغِضَکَ رَجُلٌ کَافِرٌ۔اس کلام کو مثل قرار دینا کسی مجنون کا کام ہے یہ تو اس سے بھی احمقانہ فعل ہے جیسے کوئی شخص غالب اور میر کی غزلوں کو لے کر اس میں بعض الفاظ بدل کر غالبؔ او ر میرؔ کے مدِّمقابل ہونے کا دعوٰی کرے۔قرآن کریم کی ہی