تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 340

الطور : ۳۵) اگر تم سچے ہو تو کوئی ایسی ہی بات پیش کر کے دکھائو۔میرے نزدیک اس آیت میں سب سے چھوٹا مطالبہ ہے اور وہ صرف ایک مثال کا ہے خواہ وہ ایک سورۃ سے بھی چھوٹی ہو اور یہ مطالبہ بھی اپنے دعویٰ کے ثبوت میں ہے نہ کہ کفار کے دعویٰ کے ردّ میں اور وہ دعویٰ وہی ہے جو اس سورۃ کے شروع میں کیا گیا ہے یعنی وَ الطُّوْرِ۔وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ۔فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ۔وَّ الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ۔وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ۔وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ۔اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ۔مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ(الطور :۲ تا۹)۔یعنی یہ کتاب جس کا وعدہ کوہِ طور پر دیا گیا تھا اور جو لکھی جائے گی ہمیشہ پڑھی جائے گی اور دنیا میں پھیلائی جائے گی اور اسلام جس کے متبعین کی تعداد بہت بڑھ جائے گی اور نہ صرف عوام بلکہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ روحانی و جسمانی فضائل والے اس میں داخل ہوں گے اور یہ روحانیت کا چشمہ جو مختلف ملکوں کو سیراب کرے گا ان دونوں امور کو ہم بطور قیامت کی دلیل کے پیش کرتے ہیں۔اس ذکر کے بعد فرمایا کہ کیا یہ لوگ اس کلام کو بناوٹی کہتے ہیں اگر ایسا ہے تو جو جو اور جس جس قسم کی پیشگوئیاں اوپر پیش کی گئی ہیں ان کی مانند یہ بھی ایک پیشگوئی پیش کر دیں اور مفتریات کی بھی ہم شرط نہیں لگاتے انہیں اجازت ہے کہ چاہیں تو پچھلی الہامی کتب سے ہی کوئی ایسی مثال نکال کر پیش کر دیں۔مگر یاد رکھیں کہ یہ اس کی نظیر کہیں سے نہیں لا سکتے۔اس مطالبہ میں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بھی کوئی شرط نہیں اور نہ یہ شرط ہے کہ اپنے پاس سے کوئی پیشگوئی کریں بلکہ اجازت دی ہے کہ خواہ خود بنالیں یا پچھلی کتب سے جو خواہ الہامی ہو خواہ غیر الہامی نکال کر پیش کر دیں اور پھر مطالبہ بھی نہایت چھوٹا رکھا ہے کہ ایسی ایک ہی پیشگوئی پیش کر دیں حالانکہ قرآن کریم میں اور بھی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں اور پھر دشمن کے عاجز رہنے کی وجہ بھی بتا دی ہے کہ ایسی پیشگوئی کے بیان کرنے کے لئے تو زمین اور آسمان کے خالق اور خزانوں کے مالک اور نگران اور روحانی ترقی کے مالک اور غیب کے مالک کی ضرورت ہے اور یہ باتیں ان میں موجود نہیں پس یہ کیونکر اس کی مثل بنا سکتے ہیں؟ دوسرے حصہ کو یعنی پہلی کتب سے مثال نہ لا سکنے کے دعویٰ کو ردّ کرنا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ وہ کتب سچی تھیں صرف درجہ کا سوال تھا یہ مطالبہ بھی باقی مطالبوں کی طرح اب تک قائم ہے۔اب کیا کوئی انسان خواہ کسی مذہب کا ہو۔سورۃ طور کی اس آیت کی مثل لانے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ اگر ہے تو آگے آ کر اُسے پیش کرے۔پانچواں مطالبہ سورۃ بقرہ کا ہے جس کی تشریح اوپر گذر چکی ہے۔اوپر کی تشریحات سے یہ امر ثابت ہے کہ درحقیقت یہ پانچوں مطالبے الگ الگ ہیں اور سب ایک ہی وقت