تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 331

قرآن کریم صرف چوری کے مضامین پر مشتمل ہے وہ پہلی کتب سے مضامین اخذ کر کے قرآن کریم کی مثل پیش کر دے اور پھر دیکھے کہ کیا اس کی محنت ان مضامین کا ہزارواں حصہ بھی پیش کرتی ہے جو قرآن کریم نے پیش کئے ہیں۔آیت اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ کا تعلق پہلی آیات سے اس آیت کا تعلق پہلی آیات سے یہ ہے کہ شروع سورۃ میں کہا گیا تھا کہ لَارَیْبَ فِیْہِ اس میں کوئی بات ریب والی نہیں۔جب تمام بنی نوع انسان کو ایک خدا کی پرستش کی طرف بلایا گیا اور مخالفینِ قرآن کی رگِ حمیّت پھڑکی تو انہوں نے یہ اعتراض کر دیا کہ تم ہمیں کیا دعوت دیتے ہو تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ اس کتاب میں کوئی ریب والی بات نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب نے شروع میں ہی وہ تعلیم دے دی ہے کہ جو شکوک و شبہات کا دروازہ کھول دیتی ہے یعنی ایک خدا کی تعلیم دیتی ہے حالانکہ توحید کا مسئلہ (ان کے خیال کے مطابق) بالکل باطل ہے۔اس قسم کی تعلیم کو سن کر تو ہم کو مذہب پر ہی شکوک و شبہات شروع ہو جاتے ہیں کہ کوئی یقینی سے یقینی بات بھی اعتراض سے محفوظ نہیں۔پھر مذہب کا کیا فائدہ ہوا اور اس سے کیا تسلی حاصل ہوئی؟ کفار کو ان کے اعتراض کا جواب فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ کے الفاظ سے دینے کا مطلب اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ (۱)فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ (۲) وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ تم دو کام کرو اوّل تو اس قسم کی کوئی سورۃ بنا لائو یعنی جو مضامین اس سے پہلے سورۃ بقرہ میں بیان ہوئے ہیں اس قسم کے مطالب پر مشتمل کوئی کلام پیش کر دو اور دوسرے یہ کہ اپنے شہداء کو پکارو۔اوپر کی تشریح سے ظاہر ہے کہ اس جگہ جس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ سورۃ بقرہ کی پہلی آیات میں جو مضمون گذرا ہے اسے مدِّنظر رکھتے ہوئے کوئی سورۃ ایسی لے آئو جو اس معیار کو پہنچتی ہو جو ان مضامین میں بیان کیا گیا ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ باقی قرآنِ کریم کی مثل لوگ لا سکتے ہیں بلکہ یہ حجت ِ ملزمہ ہے کہ قرآنِ کریم میں جو اور اصول بیان ہوئے ہیں ان کی مثال تو تم نے کیا لانی ہے ان چند آیات میں بیان کردہ مضمون کے مطابق ہی کوئی سورۃ لے آئو کیونکہ وہی تمہارے اعتراض کا موجب ہوئے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیںکہ اس اعتراض سے پہلے قرآن کریم میں کیا مضامین گزرے ہیں تو ہمیں پہلی آیت میں ہی جس میں لَا رَیْبَ فِیْہِ کہا گیا ہے اور جس کی بناء پر کفار نے اپنے ریب کا ذکر کیا ہے یہ مضامین نظر آتے ہیں (۱) ذٰلِکَ الْکِتٰبُ(الف) یہ موعود کتاب ہے یعنی پہلے انبیاء نے ایک کامل کتاب کی خبر دی تھی یہ وہی ہے اور اس کے ذریعہ سے ان انبیاء کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں (ب) یہ ایک کامل کتاب ہے اس میں تمام ضروری امور جو روحانی