تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 325
چنانچہ لکھا ہے اَلتَّنْزِیْلُ یَکُوْنُ تَدْرِیْجِیًّا وَمَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍ وَالْاِ نْزَالُ اَعَمُّ مِنْہُ کہ تنزیل میں تدریجاً اور یکے بعد دیگرے اُترنا ہوتا ہے لیکن لفظ انزال تنزیل سے عام ہے۔اس میں یہ شرط نہیں (اقرب) مفردات میں ان دونوں میں فرق کرتے ہوئے لکھا ہے۔وَالْفَرْقُ بَیْنَ الْاِنْزَالِ وَالتَّنْزِیْلِ اَنَّ التَّنْزِیْلَ یُخْتَصُّ بِالْمَوْضِعِ الَّذِیْ یُشِیْرُ اِلَیْہِ اِنْزَالُہٗ مُفَرَّقًا وَمَرَّۃً بَعْدَ اُخْرٰی وَالْاِنْزَالُ عَامٌکہ انزال اور تنزیل میں یہ فرق ہے کہ تنزیل کا لفظ آہستہ آہستہ اُتارنے اور یکے بعد دیگرے اتارنے کے معنوں سے مخصوص ہے لیکن لفظ انزال (اُتارنا) عام ہے یعنی خواہ اکٹھا اُترے یا یکے بعد دیگرے۔(مفردات) عَبْدِنَا: عَبَدَ لَہٗ کے معنے ہیں تَاَ لَّہَ لَہٗ تمام تر کوشش کے ساتھ پرستش میں لگ گیا۔اور عَبَدَاللّٰہَ کے معنی ہیں طَاعَ لَہٗ وَخَضَعَ وَ ذَلَّ وَخَدَمَہٗ وَالْتَزَمَ شَرَائِعَ دِیْنِہٖ وَ وَحَّدَہٗ یعنی اللہ کا فرمانبردار بن گیا اور اپنے آپ کو اسی ایک کا بنا کر اس کے احکام کا پابند ہو گیا (اقرب) اَلْعُبُوْدِیَّۃُ اِظْہَارُ التَّذَلُّلِ وَالْعِبَادَۃُ اَبْلَغُ مِنْہَا لِاَنَّھَا غَایَۃُ التَّذَلُّلِ۔عبودیت کے معنی عاجزی کے اظہار کے ہیں اور لفظ عبادت اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے زیادہ بلیغ ہے۔کیونکہ اس کے معنے انتہائی عاجزی کرنے کے ہیں۔وَلَا یَسْتَحِقُّہَا اِلَّا مَنْ لَہٗ غَایَۃُ الْاِفْضَالِ وَھُوَ اللّٰہُ تَعَالٰی اور انتہائی عاجزی اسی کے سامنے کی جا سکتی ہے جس کے انعام و اکرام بہت زیادہ ہوں اور ایسی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۔وَالْعِبَادَۃُ ضَرْبَانِ۔عِبَادَۃٌ بِالتَّسْخِیْرِ وَ عِبَادَۃٌ بِا لْاِخْتِیَارِ۔اور عبادت کی دو اقسام ہیں (۱) کسی چیز کا اپنے طبعی اعمال کے ذریعہ سے اظہار فرمانبرداری کرنا (۲) اختیاری عبادت اور یہ انسانوں کے ساتھ خاص ہے۔وَالْعَبْدُ یُقَالُ عَلٰی اَرْبَعَۃِ اَضْرُبٍ اور عبد کا لفظ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (۱) عَبْدٌ بِحُکْمِ الشَّرْعِ شریعت کی رو سے غلام جس کا بیچنا اور خریدنا جائز ہو۔ان معنوں کے اعتبار سے لفظ عَبْدٌ کی جمع عَبِیْدٌ ہو گی (۲) عَبْدٌ بِا لْاِ یْجَادِ وَ ذَالِکَ لَیْسَ اِلَّا لِلّٰہِ پیدا کئے جانے کے باعث عبد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور اس لحاظ سے عَبد کی اضافت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہو گی کیونکہ خالق صرف وہی ذات ہے (۳) عَبْدٌ بِالْعِبَادَۃِ وَالْخِدْمَۃِ عبادت اور خدمت کے باعث عبد کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس لحاظ سے لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے (ا) جو محض اللہ تعالیٰ کے لئے عبادت کرنے والے ہیں یعنی عَابِد ان معنوں کے لحاظ سے اس کی جمع عِبَادآتی ہے (ب) جو دنیا کے غلام اور دنیا دار ہوں (مفردات) مصنف تاج العروس کہتے ہیں قَالَ بَعْضُ اَئِمَۃِ الْاِشْتِقَاقِ اَصْلُ الْعُبُوْدِیَّۃِ اَلذُّ لُّ وَالْخُضُوْعُ یعنی علم اشتقاق کے بعض اَئمہ نے کہا ہے کہ عبودیت کے اصل معنے عاجزی اور خضوع کے ہیں۔وَقَالَ اٰخَرُوْنَ اَلْعُبُوْدَۃُ۔اَلرِّضَا بِـمَا یَفْعَلُ الرَّبُّ وَالْعِبَادَۃُ فِعْلُ مَا یَرْضٰی بِہِ الرَّبُّ