تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 314

میں اس امر کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ ان لوگوں نے اِس خیال کو پورے غور کے بعد پیش کیا ہو بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یا تو یہ خیال انہوں نے مذہبی دنیا کی مخالفت کے ڈر سے پیش کیا ہے یا پھر انہو ںنے اس سوال پر غور کی ضرورت ہی نہیں سمجھی اور مذہبی لوگوں کی دلجوئی کے لئے بغیر کافی غور کرنے کے یہ بات پیش کر دی ہے۔اس عقیدہ کا ردّ کہ خدا تعالیٰ نے اپنے وجود کو بتدریج ظاہر کیا میرے اس خیال کی بنیاد اِس پر ہے کہ تمام اہم مذاہب مذہب کی بنیاد الہام پر رکھتے ہیں اور اگر مذہب کی بنیاد الہام پر رکھی جائے تو یہ فلسفہ کہ خدا تعالیٰ نے آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ظاہر کیا اور پہلے اپنے سوا دوسرے وجودوں کی طرف دنیا کی راہنمائی کی ایک منٹ کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتا۔کیونکہ یہ عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے مردہ ارواح کی طرف لوگوں کی راہنمائی کی یا پتھروں، دریائوں، سانپوں، شیروں کی طرف دنیا کی راہنمائی کی اور بعد میں اپنے آپ کو ظاہر کیا کیونکہ ایک خدا کے وجود کی طرف راہنمائی اگر شروع زمانہ سے بھی کی جاتی تو اس میں عقلاً کوئی امر مستبعد نہیں۔علاوہ ازیں مختلف مذاہب جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیںوہ ابتدائے آفرینش کے الہام کے قائل پائے جاتے ہیں اور اس امر کا کوئی بھی قائل نہیں کہ الہام بعد کے کسی زمانہ سے شروع ہوا ہے۔ہندو مذہب بھی اِسی کا قائل ہے کہ ابتدائِ آفرینش سے الہام ہونا شروع ہوا اور یہودی مذہب بھی اِسی کا قائل ہے اور مسیحیت چونکہ یہودی مذہب کی آخری کڑی ہے وہ بھی اِسی امر کی قائل ہے اور زردشتی مذہب بھی اِسی امر کا قائل ہے اور اسلام بھی اِسی کا قائل ہے پس اگر یہ خیال درست ہے توماننا پڑے گا کہ وید اور تورات اور انجیل اورژند اوستا اور قرآن کریم سب کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔انسانی پیدائش کے بعد اس پر الہام کا نزول بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نےبتدریج اپنا وجود ظاہر نہیں کیا بائبل صاف طور پر اِس امر کی مدعی ہے کہ جب انسان دنیا پر نمودار ہوا اُسے الہام ہوا اور اسے خدائے واحد کا پتہ دیا گیا اور انجیل اس کے بیان کو صحیح تسلیم کرتی ہے پس اگر دنیا میں ابتداءً خدا تعالیٰ کا علم نہ تھا تو بائبل کا یہ دعویٰ یقیناً جھوٹا ہے کہ خدا نے آدم سے کہا کہ ’’پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو اور اس کو محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں پر اور آسمان کے پرندوں پر اور سب چرندوں پر جو زمین پر چلتے ہیں سرداری کرو‘‘ (پیدائش باب ۱آیت ۲۸) اس آیت سے ثابت ہے کہ آدم کے زمانہ سے جو پہلا انسان تھا اس کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ آسمان و زمین میں جو کچھ پیدا کیا گیا ہے انسان کا محکوم اور اس کے فائدہ کے لئے ہے۔اس تعلیم کے بعد آدم کے دل میں یہ خیال کس طرح پیدا ہو سکتا تھا کہ پہلے ستاروں اور سورج اور چاند کو خدا سمجھے یا زمین کے جانوروں کو خدا سمجھے یا آدم سے پہلے کون سے آباء تھے جن کو وہ خدا سمجھ سکتا تھا؟ پس یقیناً یا تو بائبل کو جھوٹا کہنا ہو گا یا اس خیال کو کہ خدا کا خیال آہستہ آہستہ پیدا ہوا غلط کہنا پڑے گا۔