تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 313

ہوئے کہتے ہیں کہ خدا نے انسان کو نہیں بنایا بلکہ انسان نے خدا کو بنایا ہے یعنی خدا تعالیٰ کا وجود کوئی نہیں۔انسان نے اپنی عقل سے ایک ایسا وجود گھڑ لیا ہے۔یہ لوگ فلسفی کہلاتے ہیں حالانکہ ان سے زیادہ جاہل اس دنیا کے پردہ پر کوئی نہیں مل سکتا۔آیت ھٰذا میں بیان شدہ توحید پر آنحضرتؐ کا عمل توحید کی وہ تعلیم جو اس آیت میں دی گئی ہے ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر کیسا عمل تھا؟ اس کی ایک مثال لکھتا ہوں ایک دفعہ ایک صحابی نے آپؐ کے سامنے کہا کہ مَاشَآئَ اللّٰہُ وَشِئْتَ یعنی فلاں معاملہ میں اسی طرح ہو گا جس طرح خدا تعالیٰ چاہے گا یا آپؐ چاہیں گے آپؐ نے فرمایا اَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا کیا تو مجھے خدا کا نِدّ بناتا ہے ؟یوں کہو کہ مَاشَآءَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ یعنی وہی ہو گا جو خدائے واحد چاہے گا (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھٰذا) آیت ھٰذا اور اس سے پہلی آیت کے مضمون کے متعلق فلسفیوں کا ایک سوال اس آیت اور پہلی آیت کے تعلق سے ایک سوال کے متعلق جو اس زمانہ میں یورپین مصنفین نے اُٹھایا ہے کچھ تحریر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔یہ سوال مسٹر ہر برٹ اسپنسر مشہور فلسفی اور مسٹر فریزر نے نمایاں طور پر پیش کیا اور ان کے بعد ڈاکٹر رابرٹسن سمتھ ،مسٹر لارنس گوم، مسٹرگرانٹ ایلن وغیر ھم نے اسے پھیلایا۔کیا خدا تعالیٰ کی نسبت عقیدہ روحوں، جنوں، پریوں کے خیال سے ترقی پا کر بنا ہے؟ ان لوگوں کے دو گروہ ہیں ایک گروہ نے یہ اصل پیش کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نسبت عقیدہ روحو ںجنوں اور پریوں کے خیال سے ترقی پا کر بنا ہے اور دوسرے گروہ نے یہ اصل پیش کیا ہے کہ ابتدائی انسان نے درندوں اور زہریلے کیڑوں سے متاثر ہو کر ان کی پوجا شروع کی اور آہستہ آہستہ خدا کا خیال پیدا ہوا۔دونوں فریق کا خیال ہے کہ ابتدا میں کئی خدائوں کا خیال پیدا ہوا اور رفتہ رفتہ اس کی جگہ ایک خدا نے لے لی۔اِن لوگوں کے دعویٰ کی بنیاد اس پر ہے کہ ابتدائِ آفرینش میں انسان کی تاریخ کئی خدائوں کے اعتقاد پر دلالت کرتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک واحدنیت سے پہلے کا ہے اور چونکہ شرک وحدانیت سے پہلے کا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک خدا کا خیال شرک کی ترقی پذیر صورت ہے۔ان میں سے بعض نے مذاہب کے پیروئوں سے ڈر کر اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہمارے عقیدہ کی زَد مذہب پر نہیں پڑتی کیونکہ ایک معقولیت پسند خدا سے یہ بعید نہیں کہ جس طرح اس نے دنیا پر قوانین نیچر کو بتدریج ظاہر کیا اسی طرح اس نے اپنی نسبت عقیدہ کو بھی دنیا پر بتدریج ظاہر کیا۔