تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 298

سورۃ البقرۃ آیت۳۔تفسیر۔يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا الخ کی تشریح قرآن کریم کی ابتدا اس دعویٰ سے کی گئی ہے کہ بہترین نسخہ وہی ہو سکتا ہے جو علمِ کامل رکھنے والی ہستی کی طرف سے تجویز ہو اور وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اس نے دنیا کی روحانی تکمیل کے لئے قرآن کریم کا نسخہ تجویز کیا ہے جو (۱) تمام کمالات کا جامع ہے (۲) تمام قسم کے ریبوں سے یعنی عیوب سے پاک ہے (۳) کمال کے کسی ایک مقام پر نہیں ٹھہرتا بلکہ جس مقام کا بھی کوئی متقی ہو اسے اس کے اوپر کے درجہ تک پہنچاتا ہے اور غیر متناہی ترقیات کے راستے کھولتا ہے۔اس کے بعد متقیوںکے لئے جو قرآنِ کریم کے زمانہ کے لوگوں کے لئے شرائط مقرر کی گئی تھیں وہ بتائیں اور پھر بتایا کہ اس کلام کا انکار کرنے والوں کا کیا حال ہو گا؟ اس کے بعد ان لوگوں کا حال بتایا کہ جو قرآن کریم کو ظاہر میں مانتے ہیں مگر دل سے نہیں مانتے یا دل سے مانتے تو ہیں لیکن اس کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں اور ان کی نسبت بیان کیا کہ یہ دونوں قسم کے لوگ قرآن کریم سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ قرآن کریم کوئی نیا جتھا بنانے کے لئے نہیں آیا کہ صرف نام اختیار کرنے پر خوش ہو جائے وہ تو دنیا کی زندگی میں تغیرّ پیدا کرنے کے لئے آیا ہے پس جب تک اس کو مان کر اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کی جائے اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا اور نہ ایسے لوگوں کو قرآن کریم کے ماننے والوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔اس اجمالی نقشہ کے بعد تیسرے رکوع میں بنی نوع انسان کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ چونکہ قرآن کریم متقیوں کو اعلیٰ مقامات پر پہنچاتا ہے اس لئے تم کو متقی بننا چاہیے تاکہ تم اس کے ساتھ جو فوائد وابستہ ہیں ان سے متمتع ہو سکو اور اس کا طریق یہ بتایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو اس سے تم متقی بن جائو گے۔تیسرے رکوع میں بنی نوع انسان کےلئے کمالات کو کامل کرنے کے طریق کا بیان عبادت کے معنے حَلِّ لُغَاتمیں بتائے جا چکے ہیں کہ کامل تذّلل اور اتباع کے ہیں جب تک پوری اتباع نہ ہو اور انسان اپنے نفس کو الٰہی تاثرات کے قبول کرنے کے قابل نہ بنائے اس کی عبادت عبادت نہیں کہلا سکتی۔جو شخص صرف ظاہری شکل عباد ت کی پوری کرتا ہے وہ عابد نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس نے تذّلل اور اتباع کا نقشہ نہیں پیش کیا۔اس آیت میں عبادت کے بارہ میں ایک لطیف اور مکمل تعلیم دی گئی ہے اور عباد ت کی تکمیل کے لئے جن امور کی ضرورت ہے وہ سب بیان کئے گئے ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ عبادت میں فائدہ کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ کامل عبادت کامل تعلق کو چاہتی ہے اور کامل تعلق کامل احسان سے پیدا ہوتا ہے اور کامل احسان وہ ہوتا ہے جو اس انسان پر بھی ہو