تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 297
اَوْجَدَہٗ وَ اَبْدَعَہٗ عَلٰی غَیْرِ مِثَالٍ سَبَقَ یعنی کسی چیز کو پیدا کیا ، عدم سے وجود بخشا۔نیست سے ہست کیا۔اختراع کیا۔(اقرب) پس خَلْقٌ کے دو معنے ہوئے (۱) اندازہ کرنا (۲) کسی چیز کا اختراع کرنا۔لَعَلَّکُمْ۔لَعَلَّ حروف مشبّہ بالفعل میں سے ہے اس کے ساتھ یائِ متکلّم بھی لگائی جاتی ہے جیسے لَعَلِّیْ کبھی لَعَلَّاور یاء ِمتکلم کے درمیان نون زائد کیا جاتا ہے جسے نونِ وقا یہ کہتے ہیں جیسے لَعَلَّنِیْ۔نون کے بغیر استعمال زیادہ ہے یہ اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لَعَلَّ زَیْدًا قَائِمٌ۔لیکن فرَّاء اور بعض دیگر نحویوں کے نزدیک اسم اور خبر دونوں کو نصب دیتا ہے جیسے لَعَلَّ زَیْدًا قَائِـماً۔لَعَلَّکے چار معنے لَعَلَّکے کئی معنے ہیں (۱) پسندیدہ شے کی توقع اور ناپسندیدہ شے سے خوف۔ان معنوں میں یہ ایسے امر کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا حصول ممکن ہو گو مشکل ہو۔قرآن کریم میں جو فرعون کاقول نقل ہے۔اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ۔اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ (المومن: ۳۷،۳۸) اس کے متعلق مفسّرین کہتے ہیں یہ اس کی جہالت پر دلالت کرتا ہے وہ اپنی نادانی سے یہی سمجھتا ہو گا کہ میں اونچے مکان پر سے خدا تک پہنچنے کا راستہ پا لوں گا مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں۔میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ یا تو وہ یہ کہتا ہے کہ علم ہیئت کے ذریعہ سے موسیٰ کے مستقبل کو معلوم کر کے اس کا مقابلہ کروں گا اور یہ ُعقدہ گو باطل ہے مگر کثرت سے رائج ہے۔یا پھر اس کا قول بطور تمسخر ہے۔چونکہ موسیٰ ؑ بار بار خدا کو آسمان پر بتاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ خدا اور فرشتے مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔اس پر وہ تمسخر سے کہتا ہے کہ لائو ایک مکان بنائو شائد اس طرح ہم موسیٰ کے خدا کو پہنچ جائیں اور ہم بھی اس سے باتیں کر کے دیکھیں۔مطلب یہ کہ ایک طرف خدا کو آسمان پر ماننا اور دوسری طرف اس سے باتیں کرنے کا دعویٰ یہ خلافِ عقل ہے۔الٰہی علوم سے ناواقف انسانوں کے لئے اس مسئلہ کو نہ سمجھ سکنا قابلِ تعجب نہیں (۲) اس کے معنے محض تعلیل کے بھی ہوتے ہیں جیسے فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى(طٰہٰ : ۴۵) یہی معنے ترجمہ میں استعمال کئے گئے ہیں (۳) کوفیوں کے نزدیک کبھی اس کے معنوںمیں استفہام کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔کلیات ابی البقاء میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ یعنیلَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ (الشعراء: ۱۳۰)کے سوا جہاں کہیں بھی لَعَلَّ استعمال ہوا ہے توقع کے معنوں میں نہیں بلکہ تعلیل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی ’’تاکہ‘‘ یا ’’تا‘‘ کے معنوں میں (۴) کلام ِ ُملوک کے طو ر پر بھی استعمال ہوتا ہے یعنی بادشاہ کے لئے کوئی اور یا بادشاہ اپنی نسبت خود امید اور توقع کے الفاظ استعمال کرتا ہے لیکن مراد اس سے یقینی بات یا حکم کے ہوتے ہیں۔تَتَّقُوْنَ۔تَتَّقُوْنَ اِتَّقٰی سے مضارع مخاطب کا صیغہ ہے اس کی تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات