تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 276
ظلمت کا لفظ بول کر اس سے ضلالت مراد لیتے ہیں۔(اقرب) وَیُعَبَّرُبِھَا عَنِ الْجَھْلِ وَ الشِّرْکِ وَ الْفِسْقِ اور جہل اور شرک اور فسق کو بھی ظلمت کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(مفردات) اندھیروں کا لفظ اس امر کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ صرف ظاہری تاریکی ہی نہیں بلکہ وہ جگہ بھی پرُ خطر ہے اور ظاہری اندھیرے کے ساتھ اور کئی قسم کے خطرات بھی لاحق ہو گئے ہیں۔اردو میں چونکہ اندھیرے کا لفظ اس موقع پر جمع کے صیغہ میں استعمال نہیں ہوتا۔اور اگر استعمال بھی کر لیں تو وہ معنے نہیں دیتا جو عربی سے ظاہر ہوتے ہیں۔اس لئے ’’قسما قسم‘‘ کے الفاظ خطوط میں بڑھا دیئے گئے ہیں تا اصل مفہوم پڑھنے والے پر ظاہر ہو جائے۔قرآن کریم میں یہ لفظ ہمیشہ جمع کے طور پر استعمال ہوا ہے۔لیکن جب بھی استعمال ہوا ہے اخلاقی یا روحانی امر کی تمثیل بیان کرنے کے لئے ہوا ہے۔کیونکہ گناہ اور بد اخلاقیاں اکیلی نہیں رہتیں۔بلکہ ایک گناہ دوسرے گناہ کو اور ایک مصیبت دوسری مصیبت کو کھینچتی ہے۔لَا یُبْصِرُوْنَ۔لَا یُبْصِرُوْنَ اَبْصَرَ سے مضارع منفی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور اَبْصَرَہٗ کے معنے ہیں رَاٰہُ اس کو دیکھا۔وَاَخْبَرَہٗ بِمَا وَقَعَتْ عَیْنُـہٗ عَلَیْہِ اور جس پر اس کی نگاہ پڑی اس کے متعلق خبر دی۔اَبْصَرَ فُلَانًا۔جَعَلَہٗ بَصِیْرًا کسی کو دیکھنے والا بنا دیا۔اَبْصَرَ الطَّرِیْقَ۔اِسْتَبَانَ وَ وَضَحَ راستہ واضح ہو گیا (اقرب) تفسیر۔آیت اَوْ كَصَيِّبٍ میں اعتقادی منافقوں کا ذکر اس آیت میں اعتقادی منافقوں کی جو دل سے کافر تھے مگر بظاہر مسلمانوں سے ملے ہوئے تھے۔ایک مثال دی ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اس مثال سے ملتے ہوئے بعض الفاظ بیان فرمائے ہیں جن سے بعض لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ وہ اِس آیت کی تشریح میں ہیں۔مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں۔وہ حدیث جسے اِس آیت کی تشریح سمجھا گیا ہے یوں ہے۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اِنَّمَا مَثَلِیْ وَ مَثَلُ اُمَّتِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اِسْتَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَتِ الدَّ وَآبُّ وَالْفَرَاشُ یَقَعْنَ فِیْہِ (فِیْھَا) فَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ وَ اَنْتُمْ تَقَحَّمُوْنَ فِیْہِ (مسلم۔کتاب الفضائل باب شفقتہ صلی اللہ علیہ وسلم علٰی اُمّتہ) یعنی حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میری حالت اور میری امت کی حالت اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی جب آگ جل اٹھی تو کیڑے مکوڑے آگ میں گرنے لگے۔پس میں تو تمہاری کمروں کو پکڑتا ہوں کہ آگ میں نہ گر جائو اور تم اس میں بے تحاشا گر رہے ہو۔اس حدیث میں بے شک ایک تمثیل بھی بیان کی گئی ہے۔نیز اس میں آگ جلانے والے ایک شخص کا بھی ذکر ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ لفظ بھی ہیں کہ یہ میری اور میری امت کی مثال ہے۔لیکن جن کفار کا آیت زیر تفسیر میں ذکر