تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 273
مُھْتَدِیْنَ۔مُھْتَدِیْنَ اِھْتَدٰی سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے۔اور اِھْتَدٰی کے وہی معنے ہیں جو ھَدٰی کے ہیں۔ھَدٰی کے لئے دیکھوحَلِّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۶۔تفسیر۔اِشْتَرَوُا الضَّلٰـلَۃَ کے دو معنے۔(۱) اِشْتَرَوُا الضَّلٰـلَۃَ بِالْھُدٰی کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ ان لوگوں نے ہدایت دے کر گمراہی کو خرید لیا ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ ان لوگوں کے سامنے ہدایت اور ضلالت دونوں پیش کی گئی تھیں انہوںنے ضلالت اختیار کر لی اور ہدایت ترک کر دی۔پہلے معنوں کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو فطرت صحیحہ عطا کی ہے اور اسے بہترین قویٰ دیئے ہیں۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم :۳۱) اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ (التین :۵) کہ ہم نے انسان کو بہترین طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسے اعلیٰ سے اعلیٰ قویٰ دئیے ہیں۔پھر اس کے بعد وہ اپنی یا اپنے والدین کی خرابیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے فطرتِ صحیحہ اور پاک قویٰ سے محروم ہو جاتا ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَا مِنْ مَوْ لُوْدٍ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَـاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ (مسلم کتاب القدرباب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ …) کہ بچہ تو فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اس کے بچپن سے فائدہ اٹھا کر اُسے اپنے دین پر کر لیتے ہیں اور اُسے یہودی یا مجوسی یا عیسائی بنا لیتے ہیں گویا وہ ان کی فطرتی ہدایت کو قربان کر دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں اسے گمراہی خرید دیتے ہیں۔یا پھر وہ بڑا ہو کر خود اپنی اچھی طاقتوں کو بُرے طریق پر استعمال کر کے خراب کر لیتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے اُسے جرأت عطا کی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ اس سے کسی کی مدد کرے وہ ظلم کرنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح اور اچھے جوہر جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کئے ہیں بُرے استعمال کی وجہ سے ضائع کر دیتا ہے۔پس اس جگہ ہدایت سے وہ فطرتی نیک طاقتیں مراد ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہیں۔اور اِشْتَرٰی کا مطلب یہ ہے کہ شر یر لوگ ان پاک قویٰ کو جو ان کی ترقی کے لئے ان کو دیئے گئے تھے بُرے مواقع پر استعمال کر کے ان سے گمراہی اور ضلالت خرید لیتے ہیں اور دینی اور دنیوی دونوں فائدوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔دوسرے معنوں کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی کے امتیاز کی مقدرت اور اختیار دیا ہے۔دوسری طرف نبیوں کے ذریعہ اس کے پاس نیکی کی تعلیم اور ہدایت بھیج دیتا ہے مگر ساتھ ہی شیطان اپنی بُری تعلیم اس کے سامنے پیش کرتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے کام نہیں لیتے وہ