تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 267

وجہ سے جل جائے یا ہلاک ہو جائے۔کیونکہ شَاطَ الشَّیْءُ کے معنے ہیں اِحْتَرَقَ کوئی چیز جل گئی۔اور اِسْتَشَاطَ غَضْبًا کے معنے ہیں اِذَا احْتَدَّ فِیْ غَضْبِہٖ وَالْتَھَبَ کہ غصہ سے آگ بگولا ہو گیا۔شَاطَ فُلَانٌ کے معنے ہیں ھَلَکَہلاک ہو گیا۔شَیْطَانٌ اس سے فَعْلَانٌ کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔اگر تو فَیْعَالٌ کے وزن پر ہو تو یہ منصرف ہو گا وگرنہ غیر منصرف۔ان معنوں کے علاوہ شیطان کے معنے لغت میں مندرجہ ذیل لکھے ہیں۔رُوْحٌ شَرِیْرٌ۔بدروح۔کُلُّ عَاتٍ مُتَمَرِّدٍ۔ہر سرکش اور حد سے بڑھنے والا۔اَلْحَیَّۃُ سانپ (سانپ کو اس لئے شیطان کہتے ہیں کہ یہ بھی لوگوں کو ہلاک کرتا ہے۔مگر شیطان اسی سانپ کو کہتے ہیں جو چھوٹا ہو)۔جو ہلاک ہونے والا ہو اس کو بھی شیطان کہتے ہیں۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ اکیلا سفر کرنے والا یا دو سفر کرنے والے شیطان ہیں۔ہاں تین اشخاص جا سکتے ہیں۔یعنی چونکہ اس وقت ڈاکے پڑتے تھے اور ہلاک ہونے کا خطرہ تھا۔اس لئے فرمایا کہ دو شخصوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔ہاں تین ہوں تو سلامت آ جانے کی امید ہو سکتی ہے۔قاموس میں لکھا ہے: وَ الشَّیْطَانُ مَعْرُوْفٌ وَ کُلُّ عَاتٍ مُتَمَرِّدٍ مِنْ اِنْسٍ اَوْجِنٍّ اَوْ دَآبَّۃٍ۔یعنی ایک شیطان تو مشہور ہے ہی نیز ہر ایک حد سے بڑھنے والے سرکش کو بھی شیطان کہتے ہیں خواہ انسان ہو یا جنّ یا چارپایہ۔مُسْتَھْرِئُ وْنَ۔مُسْتَھْرِئُ وْنَ اِسْتَھْزَأَ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے اور اِسْتَھْزَأَ کے وہی معنے ہیں جو مجرد ھَزَأَ کے ہیں۔کہتے ہیں ھَزَءَ بِہٖ وَمِنْہُ اَیْ سَخِرَمِنْہُ اس سے ہنسی ٹھٹھا کیا (اقرب) اور اَھْزَاَہُ الْبَرَدُ کے معنے ہیں قَتَلَہٗ سردی نے اسے ہلاک کر دیا (لسان) پس مُسْتَھْزِیٌٔ کے معنے ہوں گے ہنسی کرنے والا اور مُسْتَھْزِءُ وْنَ کے معنے ہوں گے ہنسی کرنے والے۔تفسیر۔شَیْطٰن کے معنے اوپر حَلِّ لُغَات میں لکھے جا چکے ہیں۔ہر شخص جو حق سے دُور ہو یا بغض و کینہ سے جل رہا ہو یا سرکش اور باغی ہو شیطان کہلاتا ہے۔اس آیت کے مضمون سے ظاہر ہے کہ شیطان کا لفظ قرآن کریم میں یقینی طو رپر انسان کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ میں شیاطین سے مراد کفار اور منافقین کے سردار ہیں اس آیت میں شیاطین سے مراد کفار اور منافقین کے سردار ہیں جو کبر اور نخوت کے باعث خدا تعالیٰ کے دین سے دور اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے سے نفور رہتے تھے اور دوسرے زیر اثر لوگوں کو بھی صراطِ مستقیم کی طرف نہیں آنے دیتے تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفاّر کہیں گے۔رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا (الاحزاب :۶۸) کہ اے ہمارے رب! ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کے کہنے پر چلے جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔