تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 266

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى اور جب( کبھی) وہ ان لوگوں سے ملیںجو ایمان لائے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو (اس رسول کو )مانتے ہیں۔اور شَيٰطِيْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ جب اپنے شیطانوںسے علیحدگی میں ملیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں۔ہم تو صرف مُسْتَهْزِءُوْنَ۠۰۰۱۵ (ان سے)ہنسی کر رہے ہیں۔حَلّ لُغَات۔خَلَوْا۔خَلَوْا خَلٰیسے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور خَـلَا بِالشَّیْءِ کے معنے ہیں اِنْفَرَدَ بِہٖ وَلَمْ یَخْلُطْ بِہٖ غَیْرَہُ۔کسی چیز کو الگ رکھا اور اس کے ساتھ کسی اور چیز کو نہ ملایا خَـلَا بِفُـلَانٍ وَمَعَہٗ وَاِلَیْہِ۔سَأَلَہٗ اَنْ یَّجْتَمِعَ بِہٖ فِیْ خَلْوَۃٍ فَفَعَلَکسی سے علیٰحدہ ملنے کی خواہش کی اور دوسرے نے یہ بات مان لی۔وَقِیْلَ اِنَّ اِلٰی ھٰـھُنَا بِمَعْنٰی مَعَ کَمَا فِیْ قَوْلِہٖ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ۔اور بعض نے کہا ہے کہ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ میں اِلٰیکے معنے مَعَ کے ہیں۔یعنی جب وہ اپنے شیطانوں کے ساتھ علیٰحدہ ہوتے ہیں۔جیسے کہ آیت مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ میں اِلٰی کے معنے مَعَ کے ہیں اور خَـلَاکَ ذَمٌّ کے معنے ہیں تجھ سے مذمت دور ہو جائے۔(اقرب) شَیٰطِیْنِھِمْ۔شَیٰطِیْنِھِمْ شَیْطَانٌ کی جمع ہے۔اور یہ لفظ دو مختلف مادوں سے بن سکتا ہے۔(۱) شَطَنَ (۲) شَاطَ۔اگر اسے شَطَنَ کے مادہ سے بنا ہوا قرار دیا جائے تو یہ فَیْعَالٌ کے وزن پر ہے۔اور شَطَنَ عَنْہُ کے معنے ہیں اَبْعَدَ دور ہو گیا۔شَطَنَ الدَّارُ کے معنے ہیں گھر دور ہو گیا (اقرب) اور اَلشَّطَنُ کے معنے ہیں اَلْحَبْلُ الطَّوِیْلُ لمبارسہّ۔اور شَطَنَ صَاحِبَہٗ کے معنے ہیں خَالَفَہٗ عَنْ نِیَّتِہٖ وَ وَجْھِہٖ اپنے ساتھی کی مخالفت کی۔اس کو اس نے ارادہ اور مقصد سے پھرا دیا (اقرب) پس اس مادہ کے لحاظ سے اس کے معنے ہوں گے کہ وہ ہستی جو حق سے خود بھی دور ہے اور دوسروں کو بھی دور کرنے والی ہے۔اور وہ ہستی جسے ہر وقت شرارتیں ہی سوجھتی ہیں اور اس نے حق کی مخالفت کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔اور اگر شَاطَ اس کا مادہ مانا جائے تو اس کے معنے ہوں گے کہ وہ ہستی جو حسد اور تعصب کی