تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 261
اس آیت کے آخر میں منافقوں کے اندر شعور کی کمی بتائی ہے کیونکہ نفاق دل سے تعلق رکھتا ہے اور قوتِ شعور ہی سے اس کا پتہ لگایا جاتا ہے۔اگر منافق ظاہری تو جیہوں کی بجائے اپنے دلوں کو پڑھنے کی کوشش کریں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کے اعمال اصلاح کے خیال سے نہیں بلکہ بزدلی اور جماعت سے اختلاف رکھنے کے باعث ہیں اور اس طرح ان کو اپنی بیماری کا علم ہو جائے۔مگر وہ اپنے دل کے خیالات کو بھی صحیح طور پر پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اس طرح دوسروں کو دھوکہ دینے کی بجائے اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ اور جب انہیں کہا جائے کہ (اسی طرح) ایمان لاؤ جس طرح(دوسرے) لوگ ایمان لائےہیں۔تو کہتے ہیں کیا ہم كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا (اس طرح) ایمان لائیں جس طرح بیوقوف (لوگ)ایمان لائے ہیںسنو ! یقیناً یہی (لوگ )بیوقوف ہیں يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۴ مگر اس حقیقت کو جانتے نہیں۔حَلّ لُغَات۔اٰمِنُوْا۔اٰمِنُوْا اٰمَنَ سے جمع مرکب کا صیغہ ہے۔اوراٰمَنَ کے لئے دیکھیں حل لغات سورۃ البقرۃ آیت۹۔اَلسُّفَھَآءُ۔اَلسُّفَھَآءُ سَفِیْہٌ کی جمع ہے جو سَفِہَ سے صفت مشبّہ کا صیغہ ہے اور سَفِہَ عَلَیْنَا کے معنے ہیں جَھِلَ وہ جہالت سے پیش آیا۔سَفِھَتِ الطَّعْنَۃُ۔اَسْرَعَ مِنْھَا الدَّمُ وَخَفَّ۔خون نیزہ کے زخم سے تیزی سے نکل کر ہلکے طور پر بہا۔سَفِہَ نَصِیْبَہٗ۔نَسِیَہٗ اپنے حصہ کو بھول گیا۔اَلسَّفَہُ کے معنے ہیں۔خِفَّۃُ الْعِلْمِ اَوْنَقِیْضُہٗ بیوقوفی۔کم عقلی۔برداشت کا کم ہونا۔اَوِالْجَھْلُ۔جہالت۔وَ اَصْلُہُ الْخِفَّۃُ وَالْحَرَکَۃُ وَالْاِضْطِرَابُ اس کے اصل معنے ہلکاپن۔حرکت اور اضطراب کے ہیں۔اور اَلسَّفِیْہُ کے معنے ہیں ذُوالسَّفْہِ ا یسا شخص جس میں عقل۔صبر اور برداشت کم ہوں۔(اقرب) مفردات میں ہے اَلسَّفَہُ۔اَلْخِفَّۃُ فِی الْبَدَنِ وَ مِنْہُ قِیْلَ زَمَامٌ سَفِیْہٌ کَثِیْرُ الْاِضْطِرَابِ ، وَ ثَوْبٌ