تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 257

تسلی ہوتی ہے وہ اسے حاصل ہو جاتی ہے۔مگر منافق بدبخت چونکہ اپنے اندر و نہ کو چھپاتا ہے اندر ہی اندر کڑھ کڑھ کر مرتا ہے۔اس لئے منافق کی اس حالت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے عَذَابٌ اَلِیْمٌ کے الفاظ استعمال کئے گئے کہ اُسے دُکھ کے ساتھ جلن کا مزہ بھی چکھنا پڑتا ہے۔وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ اور جب ان سے کہا جائے (کہ) زمین میں فساد نہ کرو۔تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف مُصْلِحُوْنَ۰۰۱۲ اصلاح کرنے والے ہیں۔حَلّ لُغَات۔لَاتُفْسِدُوْا۔لَاتُفْسِدُوْا نہی جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اَلْفَسَادُ کے معنے ہیں خُرُوْجُ الشَّیءِ عَنِ الْاِعْتِدَالِ قَلِیْـلًاکَانَ الْخُرُوْجُ مِنْہُ اَوْ کَثِیْرًا وَیُضَادُّہُ الصَّلَاحُ۔کسی چیز کا حدِّ اعتدال سے نکل جانا فساد کہلاتا ہے خواہ وہ خروج کم ہو یا زیادہ۔اور اس کے بالمقابل ’’صلاح‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔(مفردات) اَ لْاَرْضُ۔اَ لْاَرْضُ کے مصدری معنے اَلنَّفَضَۃُ وَالرِّعْدَۃُ کے ہیں۔یعنی کانپنا (تاج) اقرب میں ہے۔اَ لْاَرْضُ۔ُکرّۂ زمین۔کُلُّ مَاسَفَلَ۔ہر نیچے کی چیز۔مُصْلِحُوْنَ۔مُصْلِحُوْنَ اَصْلَحَ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے اَصْلَحَ بَیْنَ الْقَوْمِ کے معنے ہیں۔وَفَّقَ قوم کے درمیان صلح کرائی اور اَصْلَحَہٗ کے معنے ہیں اَقَامَہٗ بَعْدَ فَسَادِہٖ کسی چیز کے خراب ہو جانے کے بعد اُسے اُس کی اصل حالت پر لے آیا (اقرب) پس مُصْلِحُوْنَ کے معنے ہوئے اصلاح کرنے والے۔تفسیر۔لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِمیں اَرْض کے معنے۔اَرْضٌ کے معنے عربی زبان اور محاورہ کے مطابق ساری زمین کے ہیں اور اُس حصہ زمین کو بھی کہتے ہیں جو کسی چیز کے نیچے آئے جیسے کہتے ہیں اَرْضُ النَّعْلِ جوتی کے نیچے آنے والا حصہ زمین۔اور ہر نیچے کی چیز یا دبے ہوئے وجود کو بھی کہتے ہیں۔چنانچہ عربی کا محاورہ ہے۔اِنْ ضُرِبَ فَاَرْضٌ (اقرب) یعنی اگر اُسے مارا جائے تو وہ ارض ہو جاتا ہے یعنی بالکل دَب جاتا ہے۔محاورۂ زبان میں ارضکے معنے ملک یا زمین کے ٹکڑہ کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں اَرْضُ شَامٍ، اَرْضُ مِصْرَ یعنی شام کا ملک ،مصر کا ملک۔ہمارے ملک میں بھی زمیندار کی زمین کو اراضی کہتے ہیں۔اس آیت میں اَرض