تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 244
علم نہیں) اور یہی تمہارا وہم جو تم نے اپنے رب کے متعلق غلط طو رپر اپنے دلوں میں بٹھا لیا ہے تمہاری ہلاکت کا موجب ہو گیا ہے۔یعنی اس کی وجہ سے تمہیں اپنے اعمال کی اصلاح کا خیال نہیں رہا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تم زیاں کار ہوگئے ہو۔اسی طرح فرماتا ہے۔اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَهُمْ١ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (ھود :۶) یعنی سنو !وہ یقینا اپنے سینوں کو اس لئے موڑتے رہتے کہ اس سے چھپے رہیں۔سنو !جس وقت وہ اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں تو اس وقت بھی جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں اُسے وہ جانتا ہوتا ہے وہ یقینا سینوںکی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس عقیدہ کے لوگ اگر ایسے افعال کریں کہ جن میں اللہ تعالیٰ سے اخلاص کی رُوح نہ پائی جائے تو یہ کچھ بعید نہیں ہے کیونکہ وہ اس کی نسبت جزئیات کے علم کے قائل نہیں اور دراصل اس عقیدہ کی بھی شرط نہیں بالعموم جو لوگ کمزور ایمان کے ہوتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا کامل علم نہ رکھنے کی وجہ سے ہی کمزور ہوتے ہیں اور جب صفات الٰہیہ کا علم کامل نہ ہو تو ایسے متضاد اعتقادات اور اعمال کا صدور اُن سے ناممکن نہیں ہوتا چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ قیامت کو جب مشرک خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوں گے تو اُن میں سے بعض اُس سے یہ کہیں گے کہ وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ (الانعام :۲۴) یعنی ہمیں اللہ اپنے رب کی قسم! کہ ہم مشرک نہ تھے۔عربی کی مثل ہے کہ اَلْغَرِیْقُ یَتَشَبَّثُ بِالْحَشِیْشِ یعنی جو شخص غرق ہو رہا ہو وہ تنکے کے سہارے کو بھی نہیں چھوڑتا۔پس وہ کمزور ایمان والے جو مصائب اور مشکلات کا مقابلہ نہیں کر سکتے قسم قسم کے بہانوں سے اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔مثلاً یہ کہ اللہ رحم کرنے والا ہے۔اللہ بخشنے والا ہے۔اس وقت انسانوں کے عذاب سے اپنے آپ کو بچا لو جب خدا تعالیٰ سے معاملہ ہو گا تو ہم اس کی بخشش کے طالب ہوں گے۔اسی قسم کے غلط خیالات ہیں جن کی وجہ سے کسی شاعر نے کہہ دیا کہ ع مستحقِّ شفاعت گناہ گار اند خدا تعالیٰ کی بخشش آخر گنہگاروں کے ذریعہ سے ہی ظاہر ہو گی پس اگر ہم گناہ کرتے ہیں تو کیا ہوا؟ ہم ہی لوگ تو اللہ تعالیٰ کی بخشش کو ظاہر کرنے والے ہوں گے۔اس قسم کے خیالات اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کے قصد کو ظاہر نہیں کرتے تو اور کیا ظاہر کرتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے اخلاص کا معاملہ اس کی صفات کے کامل علم سے ہوتا ہے جو لوگ اس علم سے محروم ہوتے ہیں وہ اس قسم کے بیسیوں بہانے بنا کر اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں حالانکہ یہ تسلی ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہ کہتے ہیں کہ کبوتر بلّی کے حملہ کے وقت آنکھیں بند کر کے سمجھ لیتا ہے کہ وہ بلّی