تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 243
لوگ اپنے ایمان میں مخلص نہیں ہوتے۔پس جب مشاہدہ اس امر کی تائید کرتا ہے تو اس پر اعتراض کیسا؟ آخر ایک منافق خواہ بظاہر مومن ہو اور کفار سے ملا جلا رہے۔یا بظاہر کافر ہو اور مسلمانوں سے ملا جلا رہے وہ ایسا فعل کیوں کرتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کی غرض یہی ہوتی ہے کہ بندوں کو دھوکا دے کر فائدہ اٹھائے مگر چونکہ ایمان کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے اس لئے اس کے اس فعل کے معنے بہر صورت یہ ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ سے اخلاص کا معاملہ نہیں کر رہا اور جس طرح اخلاص کا تعلق اس سے رکھنا چاہیے اس قسم کا تعلق نہیں رکھتا۔پس اس کی نیّت خواہ بندوں کو دھوکا دینے کی ہو اگر اس کے عمل کا تجزیہ کیا جائے تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔اور جب کسی انسان کا دل خراب ہو جائے تو اس سے اس قسم کے متضاد افعال کا صدور غیر ممکن نہیں ہوتا۔باقی خدا تعالیٰ پر اس سے کوئی اعتراض نہیں آتا کیونکہ جیسا کہ اس فعل کے معنوں سے ثابت ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا تعالیٰ بھی دھوکا کھا جاتا ہے بلکہ جیسا کہ اس آیت کے آخری حصہّ میں وَمَایَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَہُمْ فرمایا ہے وہ خدا تعالیٰ کو دھوکا نہیں دیتے بلکہ اپنی جانوں کو دھوکا دیتے ہیں یعنی اس قسم کے نامناسب افعال سے سمجھتے تو یہ ہیں کہ ہم دکھوں سے محفوظ ہو گئے ہیں حالانکہ وہ اس طرح خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو سہیڑ لیتے ہیں اور عذابوں کا موَرد بن جاتے ہیں۔خادع کا یہ استعمال عرب شعراء کے کلام میں بھی آتا ہے جیسے کہ ایک شاعر کہتا ہے ع وَ خَادَعْتُ الْمَنِیَّۃَ عَنْکَ سِـرًّا یعنی میں نے ُچھپ کر تیری موت کو دھوکا دے دیا۔جس کا مطلب صرف یہ ہے کہ میں نے موت کے اثر کو دور کر دیا۔اسی طرح اس جگہ خدا تعالیٰ کے احکام اور ذمّہ واریو ںکو ٹلانے کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور منافقوں کے اس قسم کے فعل کو مجازاً خداع کہا گیا ہے۔(۲) دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر دھوکے کے قصد کے معنے کئے جائیں تو بھی درست نہیں کیونکہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کو دھوکا دینے کا قصد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے۔یہ اعتراض بھی درست نہیں کیونکہ اوّل تو ایک گروہ دنیا کا ایسا ہے بلکہ تمام فلسفی ہی اس گروہ میں شامل ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے علیم ہونے کے قائل نہیں بلکہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ُکلیات کا علم ہے جزئیات کا علم نہیں۔قرآن کریم کے زمانۂ نزول کے وقت بھی ایسے لوگ پائے جاتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ(حٰم سجدۃ: ۲۳،۲۴) یعنی تم وہ لوگ ہو کہ تم کو یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اکثر اعمال کو نہیں جانتا (یعنی اُسے کلیات کا علم ہے جزئیات کا