تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 221

آیت ۳۰ ، النحل ع ۵ آیت ۳۸، یٰس ع۱ آیت ۹ تا ۱۲۔ان آیات میں بھی اسی آیت کے مضمون کی تشریح ہے) آیت لَایُؤْمِنُوْنَ الخ سے یہ مراد نہیں کہ کفار میں سے آئندہ کوئی ایمان نہ لائے گا اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ کفار میں سے آئندہ کوئی ایمان نہ لائے گا کیونکہ واقعات اس امر پر شاہد ہیں کہ اس آیت کے بعد کثرت سے کفار ایمان لائے بلکہ اس آیت کے بعد سورۂ نصر نازل ہوئی جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا۔(النصر: ۲،۳) یعنی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نصرت اور فتح آئے گی اور تو دیکھے گا کہ لوگ دین الٰہی میں فوج در فوج داخل ہوں گے۔پس جبکہ سورۂ بقرہ کی اس آیت کے نزول کے کئی سال بعد قرآن کریم میں فوج در فوج لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے کی خبر دی گئی ہے تو اس آیت کے یہ معنے کسی طرح درست نہیں ہو سکتے کہ اس میں کفار کے مسلمان نہ ہونے کی خبر دی گئی ہے۔یہ شبہ کہ شاید اس آیت میں اس امر کا ذکر ہے کہ آئندہ کوئی کافر ایمان نہ لائے گا اس آیت کے معنوں پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت سے کھینچ تان کر بھی یہ معنے نہیں نکالے جا سکتے کہ کافر ایمان نہیں لاتے۔اس آیت میں تو یہ ذکر ہے کہ جن کفار کے لئے ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہو وہ ایمان نہیں لاتے۔اور یہ ظاہر ہے کہ نہ ہر کافر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے لئے ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہو اور نہ ہر کافر ہدایت سے محروم ہوتاہے۔کافر منکر کا نام ہے اور جب ایسے لوگوں کے سامنے صداقت آئے گی جو اس سے واقف نہیں اور اس کے دلائل ابھی ان کے ذہن نشین نہیں ہوئے تو وہ اس وقت تک اس کا انکار کرنے پر مجبور ہوں گے۔لیکن ان میں سے ہر شخص وہ نہ ہو گا جو باوجود صداقت کے روشن ہو جانے کے اس کا منکر ہو گا اور نہ ہر شخص ایسا ہو گا جس کی دماغی قابلیت کے لحاظ سے پہلے ہی دن اس پر صداقت روشن ہو سکے گی۔پس ہر ایسا شخص اس آیت کے مصداقوں میں سے نہ ہو گا۔اس کا مصداق وہی ہو گا جو باوجود صداقت کھل جانے کے اس کا انکار کرے گا یا اس کوشش میں لگا رہے گا کہ مجھ پر صداقت کھلے ہی نہ۔اور ظاہر ہے کہ ان دونوں صفات والا شخص جب تک اپنی اس حالت کو نہ بدلے ایمان نہیں لا سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں یہ ذکر نہیں کہ کفار ہدایت نہیں پائیں گے بلکہ یہ ذکر ہے کہ یہ قرآن کافروں کو ہدایت دے گا سوائے اُن کے جو صداقت کے کھل جانے کے باوجود اس کا انکار کریں یا صداقت کے کھلنے کے راستوں کو اپنے اوپر بند کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔آیت سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ الخ میں ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ کے معنے ماضی کے نہیں یہ شبہ جو اوپر بیان ہوا اس بات سے پیدا ہوا ہے کہ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ (البقرۃ: ۷) کو ماضی کے معنی میں سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ