تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 220

یَـجْحَدُ الْوَحْدَا نِیَّۃَ اَوِ النُّبُوَّۃَ اَوِ الشَّرِیْعَۃَ اَوْ ثَـلَا ثَھَا اور کافرکا لفظ جب اکیلا استعمال ہو تو اس کے معروف معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا آنحضرتؐ کی نبوت اور شریعت یا ان تینوں کا منکر ہو (مفردات) پس کَفَرُوْا کے معنے ہوں گے جنہوں نے انکار کیا۔کفر کیا۔حق پوشی کی۔یا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یا آنحضرت صلعم کی نبوت کا یا شریعت کا یا ان تینوں کا انکار کیا۔ئَ اَ نْذَرْتَھُمْ۔أ۔ھمزہ ہے جو استفہام کے معنے بھی دیتا ہے یعنی سوال کے۔اور کبھی ان معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے کہ فعل پر آ کر اُسے مصدر کے معنے دیدیتا ہے اس وقت اس کے معنو ں میں استفہام کا مفہوم باقی نہیں رہتا۔اَ نْذَرْتَھُمْ۔اَنْذَرْتَ۔اَنْذَرَ سے مفرد مخاطب کا صیغہ ہے اور اس کا مصدر اِنْذَارٌ ہے۔کہتے ہیں اَنْذَرَہٗ بِا لْاَمْرِ۔اَعْلَمَہٗ وَحَذَّرَہٗ مِنْ عَوَاقِبِہٖ قَـبْلَ حَلُولِہٖ یعنی کسی امر کی حقیقت سے اُسے آگاہ کیا۔اور اس امرکے نتائج ظاہر ہونے سے پہلے اُسے ہوشیار کر دیا۔نیز کہتے ہیں۔اَنْذَرَہٗ: خَوَّفَہٗ فِیْ اِبْلَاغِہٖ ، یُقَالُ اَنْذَرْتُ الْقَوْمَ سَیْرَ العَدُوِّ اِلَیْھِمْ فَنَذَرُوْا یعنی اَنْذَرَہٗ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خبر پہنچاتے ہوئے خوب ہوشیار کیا۔چنانچہ جب کہتے ہیں اَنْذَرْتُ الْقَوْمَ سَیْرَ الْعَدُوِّ تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں نے قوم کو دشمن کی پیش قدمی سے خوب ہوشیار کیا اس کا فعل لازم یا مطاوع نَذَرَ ہے۔جس کے معنے ہیں وہ ہوشیار ہو گیا۔(اقرب) یُؤْمِنُوْنَ۔یُؤْمِنُوْنَ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۴۔تفسیر۔پہلی آیات میں ان لوگوں کا حال بتایا تھا۔جو قرآن کریم پر عمل کریں گے۔اور بتایا تھا کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر لیں گے اور ادنیٰ ہدایت سے اعلیٰ ہدایت کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے حتیّٰ کہ ان کا تعلق ہدایت سے دائمی ہو جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص روشنی حاصل کر کے اپنے روحانی سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کر لیں گے۔قرآن مجید کی آیات کو سن کر غور نہ کرنے والے کا انجام اس کے بعد اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے جو قرآن کریم کی تعلیم سن کر اس سے اعراض کرتے ہیں اور اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے بلکہ اس کے انکار پر باوجود ہر قسم کے دلائل مہیا ہونے کے ُمصِرّ ہوتے ہیں۔ان کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو باوجود دلائل کے مہیّا ہو جانے کے صداقت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا کیونکہ ایمان اُسی کو نصیب ہو سکتا ہے کہ جو دلائل و براہین سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے (دیکھو یونس ع۴ آیت ۳۴۔الاعراف ع ۳