تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 201

بعض لوگوں کا آیت یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ سے آنحضرتؐ کی ذات کو چھوڑ کر قرآن مجید پر ایمان لانے کا غلط استدلال اور اس کا ردّ بعض لوگ اس آیت اور ایسی ہی بعض دوسری آیات سے یہ دھوکا کھاتے ہیں کہ قرآن کریم پر ایمان لانے کا حکم ہے نہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کو تسلیم کرنے کی نہ ضرورت ہے، نہ یہ جائز ہے بلکہ شرک ہے۔یہ فرقہ چند سال سے ہندوستان میں پیدا ہوا ہے اور اصل میں خوارج کی ایک شاخ ہے کیونکہ خوارج میں بھی اصل جذبہ یہی کار فرما تھا کہ اَلْحُکْمُ لِلّٰہِ وَالْاَمْرُ شُوْرٰى بَیْنَہُمْ یعنی حکم صرف خدا تعالیٰ کا ہے اس کے بعدجن امو رمیں کسی فیصلہ کی ضرورت ہو اس کا فیصلہ مسلمان اپنے مشورہ اور اتفاق سے کریں گے۔ان لوگوں کو یہ دھوکا قرآن کریم کے مضامین پر غور نہ کرنے سے لگا ہے۔ان کے اس وہم کی بنیاد اس پر ہے کہ چونکہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ متعدد آیات میں بیان ہوا ہے کہ وہ مکمل کتاب ہے اس لئے اور کسی شخص کی ہدایت یا تشریح کی کیا ضرورت ہے؟ اس بنیاد میں غلو کر کے جہاں جہاں رسول پر ایمان لانے یا اس کی اطاعت کرنے کا حکم قرآن کریم میں آتا ہے اس کے معنے وہ قرآن کریم کے لیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہاں رسول سے مراد قرآن کریم ہے۔یہ لوگ اس امر پر غور نہیں کرتے کہ قرآن کریم میں کتب سماویہ کے نزول کا ذکر دو طرح آتا ہے ایک تو رسول کی طرف نسبت دے کر دوسرے اس کتاب کے ساتھ وابستہ گروہ سے نسبت دے کر۔مثلاً قرآن کریم کی نسبت یہ الفاظ بھی ہیں کہ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ اور یہ بھی ہیں کہ وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا (الانعام:۱۱۵) یعنی وہ خدا ہی ہے جس نے تم پر ایک کامل اور مفصّل کتاب اتاری ہے۔غور کے قابل بات ہے کہ آخر یہ فرق قرآن کریم نے کیوں کیا ہے؟ کسی جگہ تو فرماتا ہے کہ یہ کتاب تم پر نازل ہوئی ہے اور کسی جگہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اگر دوسرے لوگوں کی طرف کتاب نازل ہونے کی نسبت اس غرض سے کی گئی ہے کہ وہ کتاب اُن کے لئے نازل کی گئی ہے تو پھر محمدرسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟صرف یہی کہا جاتا کہ جو کتاب تم پر نازل ہوئی ہے اس پر ایمان لائو لیکن قرآن کریم نہ ایک جگہ بلکہ متواتر اس نسبتِ نزول کا ذکر کرتا ہے اور اس شخص کو پیش کرتاہے جس پر وہ کلام نازل ہوا ہے اور یہ طریق بیان اس کا آنحضرت علیہ السلام کی نسبت ہی نہیں بلکہ تمام سابق انبیاء کی نسبت بھی ہے۔مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں بھی وہ یہ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ (البقرة:۸۸) یعنی ہم نے موسیٰ کو ضرور کتاب دی تھی اور پھر ساتھ یہ بھی فرماتا ہے۔وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ (آل عمران :۰۰ ۲) یعنی