تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 200
صرف نیک نیتی اسی حالت میں کام آتی ہے جبکہ صحیح طریق عمل کا معلوم کرنا اس کے لئے ناممکن ہو۔لیکن جب صحیح طریق عمل کا معلوم کرنا ممکن ہو تو نیک نیتی کا عذر نہ صرف یہ کہ غیرمقبول ہوتا ہے بلکہ غیر معقول بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص کی نیت نیک بھی ہو اور وہ پھر بھی صحیح طریق عمل کو نظر انداز کر دے اور اس کے معلوم کرنے سے اعراض کرے۔نیک نیت تو وہی ہوتا ہے جو اپنی نیت کے مطابق عمل بھی کرتا ہے لیکن جو شخص باوجود استطاعت کے صحیح طریق عمل کو چھوڑ دیتا ہے یا اُسے معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ تواپنے عمل سے اپنے دعویٰ کو باطل کرتا ہے اور اپنی بدنیتی پر آپ شاہد ہوتا ہے۔چونکہ روحانی عالم میں صحیح طریق عمل وہی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا جائے اس لئے وہی شخص نیک نیت کہلائے گا کہ جو اس طریق کو معلوم کرنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔اور چونکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد وہی صحیح طریق عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ پر ظاہر کیا ہے اس لئے وہی شخص روحانی مقاصد کو پا سکتا ہے جو آپؐ پر نازل ہونے والے کلام پر ایمان لائے۔پس چوتھی صفت متقی کی یہ بیان کی گئی کہ وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام پر ایمان لاتا ہو کیونکہ جو شخص اس کلام پر ایمان نہیں لاتا جو اس کے زمانہ کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہو وہ ہدایت کی جزئیات سے نہ باخبر ہو سکتا ہے او رنہ اُن پر عمل کر سکتا ہے۔او رظاہر ہے کہ جو کسی مقصد کے حصول کی تمام جزئیات سے واقف نہیں وہ اس مقصد کو پا بھی نہیں سکتا۔جو شخص کسی زبان کا عالم بننا چاہے اسے اس زبان کے الفاظ اور الفاظ کی صحیح بندش کے طریق اور اس میں خیالات کے اظہار کے مناسب طریق کو بھی سیکھنا ہو گا ورنہ اس زبان کا ماہر نہیں ہو سکتا۔اسی طرح تقویٰ کی تکمیل کے لئے یہ ضروری ہے کہ تقویٰ کی جزئیات سے بھی انسان واقف ہو جو ان سے واقف نہ ہو گا اس کے خیالات اور عمل بسا اوقات تقویٰ کے خلاف ہوں گے اور بجائے تقویٰ میں ترقی کرنے کے وہ آہستہ آہستہ اس اجمالی تقویٰ کو بھی کھو بیٹھے گا جو اُسے نیک نیتی کی وجہ سے حاصل تھا کیونکہ خالی نیت انسان کو صحیح اعمال پر قادر نہیں کر سکتی۔کوئی شخص کتنا ہی مضبوط ارادہ رکھتا ہو کہ وہ صحیح زبان بولے گا لیکن اگر اُسے اس زبان کے الفاظ کا علم نہیں، اس کی بندشوں کا علم نہیں تو محض ارادہ سے وہ صحیح زبان نہیں بول سکتا۔پس اس جملہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اجمالی تقویٰ کے حاصل ہونے کے بعد متقی اس کی تفصیلات کو معلوم کر کے اس کے مطابق عمل کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے اور چونکہ اس زمانہ میں تقویٰ کی تفصیلات وہی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعہ سے ظاہر کی گئی ہیں اس لئے تقویٰ کے تفصیلی حصہ کو کامل کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔