تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 184

ایک مالدار آدمی ایک کان سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ کان کے مزدوروں کو ان کی مزدوری پوری طرح ادا بھی کر دے تو بھی وہ جو کچھ ان کو ادا کرتا ہے وہ ان کی مزدوری ہے مگر قرآنی تعلیم کے مطابق وہ لوگ بھی اس کان میں حصہ دار تھے کیونکہ قرآن کریم بتاتا ہے کہ دنیا کے سب خزانے تمام بنی نوع انسان کے لئے پیدا کئے گئے ہیں نہ کہ کسی خاص شخص کے لئے پس مزدوری ادا کر دینے کے بعد بھی حق ملکیت جو مزدوروں کو حاصل تھا ادا نہیں ہوتا اس کی ادائیگی کی یہ صورت ہو سکتی تھی کہ ان مزدوروں کو کچھ زائد رقم بھی دی جائے مگر اس سے بھی وہ حق ادا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس طرح ان چند مزدوروں کو تو اُن کا حق ادا ہو جاتا مگر باقی دنیا بھی تو اس میں حصہ دار تھی اُن کا حق ادا ہونے سے رہ جاتا۔پس اسلام نے یہ حکم دیا کہ اس قسم کی کمائی میں سے کچھ حصہ حکومت کو ادا کیا جائے تاکہ وہ اسے تمام لوگوں پر مشترک طو رپر خرچ کرے۔اسی طرح زمیندار جو زمین میں سے اپنی روزی پیدا کرتا ہے گو اپنی محنت کا پھل کھاتا ہے مگر وہ اس زمین سے بھی تو فائدہ اٹھاتا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لئے بنائی گئی تھی پس اس کی آمد میں سے بھی ایک حصہ حکومت کو قرآن کریم دلواتا ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے اسے خرچ کیا جائے اسی طرح تجارت کرنے والا بظاہر اپنے مال سے تجارت کرتا ہے لیکن اس کی تجارت کا مدار ملکی امن پر ہے اور اس امن کے قیام میں ملک کے ہر شخص کا حصہ ہے پس اس حصہ کو دلانے کے لئے اس کے مال پر بھی اسلام نے زکوٰۃ مقرر کی ہے تاکہ حکومت کے ذریعہ سے باقی لوگوں کا حق ادا ہو جائے اسی طرح جو شخص مال جمع کرتا ہے اس کے مال جمع کرنے کی وجہ سے دوسرے لوگ اس مال سے نفع حاصل کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں جو اس مال میں ازل سے شریک مقرر کئے گئے تھے پس اس مال پر بھی شریعت نے زکوٰۃ مقر ر کی ہے گو جس وقت وہ مال کمایا گیا تھا اس پر زکوٰۃ دی گئی تھی لیکن پہلی زکوٰۃ تو اس حق کے بدلہ میں تھی جو اس مال میں دوسروں کو حاصل تھا اور دوسری زکوٰۃ اس وجہ سے ہے کہ اس مال کو بند رکھنے کی وجہ سے وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر دیئے گئے۔زکوٰۃ اور اس کا اجمالی حکم زکوٰۃ کے یہ تمام احکام قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں اور بعض کی تشریح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے ہوتی ہے وہ سب اپنے اپنے موقع پر تفسیر میں انشاء اللہ بیان ہوں گے اس جگہ زکوٰۃ کے اس اجمالی حکم کی طرف اشارہ کرنا کافی ہے جس میں اس حکم کی حکمت کو بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّيْهِمْ بِهَا (التوبة :۱۰۳) یعنی تمام ان مومنوں سے جو اسلامی حکومت تلے رہتے ہیں صدقہ لے اس طرح تو ان کے دلوں کو پاک کرے گا اور ان کے مالوں کو بھی۔دوسرے لوگوں کے مالوں