تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 183

بھی امراء پر خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔ایک مالدار جو ایک گائوں میں رہتا ہے اس کے مال کی حفاظت ان سینکڑوں غرباء کی ہمسائیگی سے ہو رہی ہوتی ہے جو اس کے ساتھ گائوں میں رہتے ہیں ورنہ ڈاکو اور چور اس کو لوٹ لیں۔اگر اس کے گھر پر چور اور ڈاکو حملہ نہیں کرتے تو اس کا موجب صرف اس کے ملازم نہیں ہوتے بلکہ اسی بستی میں رہنے والے سب لوگ ہوتے ہیں جن کے خوف سے ڈاکو اس کے گھر پر حملہ نہیں کرتے ایک امیر اپنی امارت غرباء کی مدد کے بغیر قائم ہی نہیں رکھ سکتا کیونکہ دولت مزدور کی مدد سے آتی ہے مزدور نہ ہو تو دولت کہاں سے آئے؟ پس امیر ہی غریب کی مدد نہیں کرتا بلکہ غریب بھی امیر کی مدد کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے تعاون اور محبت کے قیام اور زیادتی کے لئے دنیا میں ایسا انتظام کیا ہے کہ ہر شخص کے مال میں کچھ دوسروں کا حصہ بھی رکھ دیا ہے تاباہمی ہمدردی اور تعاون سے محبت بڑھے اور تمدن ترقی کرے۔اگر ہر ایک آزاد ہوتا تو مدنیت کبھی ترقی نہ کرتی اور وہ علوم جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتے ہیں کبھی پیدا نہ ہوتے پس رزق کا باہم ملا دینا ایک بڑی حکمت پر مبنی ہے۔اس جگہ میں مالی خرچ کے متعلق کسی قدر تفصیل سے قرآنی تعلیم کو بیان کر دینا چاہتا ہوں تاکہ قرآن کریم نے جو اس بارہ میں احکام دیئے ہیں اجمالی طور پر ذہن نشین ہو جائیں۔اسلام میں دس قسم کے مالی خرچ قرآن کریم میں مالی خرچ کئی قسم کا بیان ہوا ہے۔(۱) زکوٰۃ جو فرض ہے (۲) صدقہ جو نفلی ہے اور انسان کے اندرونی تقویٰ کے فیصلہ پر اسے چھوڑ دیا گیا ہے یہ آگے دو قسم کا ہے (الف) ان کے لئے صدقہ جو اپنی ضرورتوں کو پیش کر کے مطالبہ کر لیتے ہیں (باء) ان کے لئے صدقہ جو اپنی ضرورتوں کو پیش نہیں کرتے۔یہ آگے دو قسم کا ہے (۱) جو اپنی ضرورتوںکو پیش نہیں کرتے (۲) جو اپنی ضرورتوں کو پیش نہیں کر سکتے۔(۳) وہ خرچ جو انسان قومی ضروریات کے لئے کرتا ہے (۴) شکرانہ (۵) فدیہ (۶) کفارہ (۷) تعاونی خرچ جو مدنی نظام کی ترقی کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے (۸) حق الخدمت (۹) اداء احسان (۱۰) تحفہ۔یہ دس قسم کے خرچ ہیں جو قرآن کریم سے ثابت ہیں اور جن خرچوں میں سے کسی ایک کا ترک بھی جب موقع اس کا مقتضی ہو اس آیت پر عمل کرنے سے انسان کو محروم کر دیتا ہے اور اس کے تقویٰ میں کمزوری پیدا کر دیتا ہے دنیا میں بہت سے لوگ اس تقسیم کو مدِّنظر نہ رکھ کر اعلیٰ ثوابوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔زکوٰۃ اور اس کی حکمت (۱) زکوٰۃ وہ خرچ ہے جو قرآن کریم میں فرض کیا گیا ہے اور اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ تمام انسانوں کی دولت دوسرے لوگوں کی مدد سے کمائی جاتی ہے اور اس کمائی میں بہت دفعہ دوسروں کا حق شامل ہوتا ہے جو باوجود انفرادی طور پر دوسروں کا حق ادا کر دینے کے پھر بھی دولتمند کے مال میں باقی رہ جاتا ہے مثلاً