تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 155

اور پیٹ کو لاتوں سے جدا رکھنے(نسائی کِتَابُ اِفْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ بَابُ صِفَۃِ السُّجُوْدِ وَ التَّجَافِیْ فِی السُّجُوْدِ وَالْاِعْتِدَالِ فِی السُّجُوْدِ) اور قعدہ کے موقع پر دائیں پائوں کی انگلیوں کو قبلہ رُخ رکھ کر پائوں کھڑا رکھنے کا حکم دیا ہے (ترمذی اَبْوَابُ الصَّلٰوۃِ بَابُ مَاجَآءَ کَیْفَ الْجُلُوْسِ فِی التَّشَھُّدِ) کیونکہ یہ سب امور چستی اور ہوشیاری پیدا کرتے ہیں اور نیند اور اونگھ اور غفلت کو دُور کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اسلام نے نماز سے پہلے وضوء کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ سر اور جو ارح کے اعصاب کو تری اور سردی پہنچ کر جسم میں چستی اور خیالات میں یکسوئی پیدا ہو۔اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ کے لُغوی معنوں کی تصدیق قرآن مجید اور احادیث سے اوپر جو معانی یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے لغوی معنوں سے استنباط کر کے لکھے گئے ہیں قرآن کریم اور احادیث سے بھی ان کی تصدیق ہوتی ہے۔مثلاً ایک معنے یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے یہ کئے گئے تھے کہ باقاعدگی سے نماز ادا کریں اور ناغے نہ کریں اس کے مفہوم کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے۔اَلَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ (المعارج :۲۴) یعنی مومن اپنی نمازوں میں ناغہ نہیں ہونے دیتے بلکہ ہمیشہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتے رہتے ہیں۔دوسرے معنے یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے اعتدال اور درستی کے ساتھ نماز ادا کرنے کے کئے گئے تھے ان کی تائید اَلَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ کی آیت سے ہوتی ہے (المومنون :۳) یعنی مومن اپنی نمازوں میں خشوع اور فرمانبرداری کو مدنظر رکھتے ہیں یعنی ظاہری اور باطنی احکام جو نماز کے بارہ میں دیئے گئے ہیں سب کو پورا کرتے ہیں۔تیسرے معنے یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے یہ کئے گئے تھے کہ وہ نماز کو درست رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ان معنوں کی تصدیق اس آیت سے ہوتی ہے وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ (المومنون :۰ ۱) مومنِ کامل اپنی نماز کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔یعنی اُسے اعلیٰ اور کامل بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔چوتھے معنے یہ کئے گئے تھے کہ نماز باجماعت کی ترویج میں مومن لگے رہتے ہیں۔اِن معنوں کی تصدیق قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا (طٰہٰ :۱۳۳) اے ہمارے مخاطب !اپنے اہل کو نماز کی نصیحت کرتے رہا کرو اور اس حکم کو کبھی نہ بھولو بلکہ نماز کی یاد دہانی کو ایک ضروری اور لازمی ذمہ واری سمجھ لو۔اور یہ جو معنے کئے گئے تھے کہ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ سے مراد نماز باجماعت کے ہیں سو یہ مندرجہ ذیل آیت سے نکلتے ہیں وَ اِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْيَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ(النساء :۱۰۳) یعنی جب تو مسلمانوں میں موجود ہو اور نماز میں ان کی امامت کرائے تو چاہیے کہ مومن سب کے سب نماز باجماعت