تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 154
نماز باجماعت کی ضرورت کو عام طور پر مسلمان بھول گئے ہیں اور یہ ایک بڑا موجب مسلمانوں کے تفرقہ اور اختلاف کا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس عبادت میں بہت سی شخصی اور قومی برکتیں رکھی تھیں مگر افسوس کہ مسلمانوں نے انہیں بھلا دیا۔قرآن کریم نے جہاں بھی نماز کا حکم دیا نماز باجماعت کا حکم دیا ہے خالی نماز پڑھنے کا کہیں بھی حکم نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز باجماعت اہم اصول دین میں سے ہے بلکہ قرآن کریم کی آیات کو دیکھ کر کہ جب بھی نماز کا حکم بیان ہوا ہے نماز باجماعت کے الفاظ میں ہوا ہے تو صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک نماز صرف تبھی ادا ہوتی ہے کہ باجماعت ادا کی جائے سوائے اس کے کہ ناقابل ِ علاج مجبوری ہو۔پس جو کوئی شخص بیماری یا شہر سے باہر ہونے یا نسیان یا دوسرے مسلمان کے موجود نہ ہونے کے عذر کے سوا نماز باجماعت کو ترک کرتا ہے خواہ وہ گھر پر نماز پڑھ بھی لے تو اس کی نماز نہ ہو گی اور وہ نماز کا تارک سمجھا جائے گا۔قرآن کریم میں نماز پڑھنے کا جہاں بھی حکم آیا ہے اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ کے الفاظ سے آیا ہے کبھی بھی خالی صَلُّوْا کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔یہ امر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اصل حکم یہ ہے کہ فرض نماز کو باجماعت ادا کیا جائے اور بغیر جماعت کے نماز صرف مجبوری کے ماتحت جائز ہے جیسے کوئی کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو اُسے بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے پس جس طرح کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو لیکن بیٹھ کر پڑھے تو یقینا وہ گنہگار ہو گا اسی طرح جسے باجماعت نماز کا موقع مل سکے مگر وہ باجماعت نماز ادا نہ کرے تو وہ بھی گنہگار ہو گا۔آج کل بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جو باجماعت نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں اور باتو ںمیں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ نماز ہو چکتی ہے او رپھر افسوس کرتے ہیں کہ نماز چلی گئی۔ان کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ وہ معمولی غفلت سے بہت بڑے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ کے چھٹے معنے نماز کو ہوشیاری سے ادا کرنے کے (۶) یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ نماز ُچستی او رہوشیاری سے ادا کی جائے کیونکہ ُسستی اور غفلت کی وجہ سے خیالات میں پراگندگی پیدا ہوتی ہے اور نماز کا مغز ہاتھ سے جاتا رہتا ہے اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں لاتیںڈھیلی چھوڑنے یا سہارا لگانے (مُسْلِمْ کِتَابُ الصَّلٰوۃ۔بَابُ کَرَاھَۃُ الاِخْتِصَارِ فِی الصَّلٰوۃِ) یا کہنیاں سجدہ کے وقت زمین پر ٹیکنے سے منع فرمایا ہے (ترمذی اَبْوَابُ الصَّلٰوۃِ بَابُ مَاجَاءَ فِی الْاِعْتِدَالِ فِی السُّجُوْدِ) اور اس کے بالمقابل رکوع میں کمر سیدھی رکھنے (ترمذی اَبْوَابُ الصَّلٰوۃِ بَابُ مَاجَآءَ فِیْ مَنْ لَّایُقِیْمُ صُلْبُہٗ) کھڑا ہوتے وقت یا رکوع میں ٹانگوں کو سیدھا رکھنے سجدہ میں پائوں گھٹنوں، ہتھیلیوں اور ماتھے پر بوجھ رکھنے (ترمذی کِتَابُ الصَّلٰوۃِ بَابُ مَاجَآءَ فِی السُّجُوْدِ عَلٰی سَبْعَۃِ اَعْضَآءٍ) او رکمر