تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 101
سے حیوان سے بہتر ہے۔(اقرب) کِتَابٌ۔کِتَابٌ۔کَتَبَ کا مصدر ہے اور اسی لحاظ سے ہر اُس چیز کا نام کتاب رکھا گیا ہے جس میں مختلف مسائل کو فصل باب کے ساتھ لکھ دیا جائے۔تو رات کو بھی انہی معنوں میں کتاب کہتے ہیں اور ہر لکھی ہوئی تصنیف کو بھی کِتَاب کہتے ہیں اور کِتَاب کے معنی فرض کے بھی ہیں اور حُکم کے بھی اور قضاء آسمانی کے بھی۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے کلام کو بھی کِتَاب کہتے ہیں اور خط کو بھی کِتَاب کہتے ہیں۔(اقرب) پس اس لفظ کے اپنے اپنے محل پر مختلف معنی ہوںگے کبھی فروض و احکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شریعت والی وحی کو کتاب کہیں گے اور کبھی صرف الہام کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ہرقطعی اور یقینی وحی کو کتاب کہیں گے خواہ کتابی صورت میں جمع کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔رَیْبٌ۔اَلظِّنَّۃُ وَالتُّھْمَۃُ۔تخمین سے بلا دلیل کوئی بات کہنا یا محض وہم سے کسی پر الزام لگانا اور اس کی سچائی میں شبہ کرنا۔اَلشَّکٌّ۔شک۔اَلْحَاجَۃُ۔کمی۔ضرورت اور رَیْبُ الْمَنُوْنِ کے معنے ہیں زمانہ کے مصائب آفات۔(اقرب) لفظ رَیْبٌ کا استعمال قرآن مجید میں رَیْب کا لفظ قرآن کریم میں اور کئی جگہ استعمال ہوا ہے مثلاً اسی سورۃ میں فرماتا ہے۔وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ (البقرۃ:۲۴) اس جگہ مراد صداقت میں شبہ کے ہیں۔اسی طرح سورۂ حج میں ہے۔يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ (الحج :۶) اس جگہ بھی بعث بعد الموت کی صداقت میں شک و شبہ کرنے کے معنے ہیں پھر سورۂ طور میں ہے۔اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ (الطور :۳۱) یعنی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے جس کے متعلق ہم انتظار کر رہے ہیں کہ زمانہ کے مصائب آخر اسے ہلاک کر دیںگے۔اس جگہ رَیْب مصائب ِ دہر اور ہلاکت کے معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔قرآن کریم میں رَیْب کا لفظ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔مثلاً فرماتا ہے۔مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِ(ق:۲۶) نیکی سے بہت روکنے والا۔حد سے بڑھنے والا۔شک و شبہ کا شکار دوزخ میں ڈالا جائے گا۔اسی طرح سورۂ مومن میں آتا ہے۔كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ (المومن:۳۵) یعنی اللہ تعالیٰ اسی طرح گمراہ قرار دیتا ہے یا ہلاک کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا یا اپنے عقیدہ اور خیالات کی بنیاد غیر معقول شبہات و و ساوس پر رکھنے والا ہو۔پس رَیْب اس شک کو نہیں کہتے جو علم کی زیادتی کا موجب ہوتا ہو اور تحقیق میں ممدّ ہو بلکہ اس شک کو