تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 60
نبوت (۳) تیسری چیز نبوت ہے۔یوں تو نبوت کو ساری قومیں مانتی ہیں۔ہندو بھی کہتے ہیں اوتار آئے، عراقی بھی کہتے ہیں نبی آئے۔یہودیوں اور عیسائیوں کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ نبی آئے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ ادھر تو کہتے ہیں نبی آئے ادھر نبوت کے متعلق وہ کچھ بھی روشنی نہیں ڈالتے۔صرف کتاب میں نبی اور اوتار کے الفاظ پائے جانے سے تو کسی کی تسلی نہیں ہوسکتی۔جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ وہ کیا ہیں، ان کا کیا کام ہوتا ہے، ان کی تعریف کیا ہے،ان کے آنے کی اغراض کیا ہو تی ہیں، ان کی صداقت کی کیا علامات ہو تی ہیں، کس حد تک ہمیں ان کی اطاعت کرنی چاہیے، ان کا کیا مقام ہو تا ہے، اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کیا تعلق ہو تا ہے، ان کے اور بندوں کے درمیان کیا تعلق ہو تا ہے، ان تمام باتوں کا جب تک تفصیلاً پتہ نہ لگے کوئی شخص تسلی کس طرح پا سکتا ہے۔قرآن کریم کا ہستی باری تعالیٰ، ملائکہ، نبوت و قضاء و قدر کے متعلق بیان کرنا اور اس کے بیان سے دوسری الہامی کتب پر فضیلت مسئلہ نبوت کے متعلق میں نے ایک دفعہ یہودیوں اور مسیحیوں کو رجسٹری خطوط لکھ کر سوال کئے مگر کسی ایک شخص نے بھی نبوت کی تعریف اپنی کتاب سے ثابت نہ کی بلکہ ایک بشپ نے جو لاہور کا رہنے والا تھا تسلیم کیا کہ ہماری کتب اس بارہ میں بالکل خاموش ہیں۔یہ قرآن کریم کی دوسری کتب پر کتنی بڑی فضیلت ہے۔قرآن کریم دوسری کتابوں کے مقابلہ میں بہت چھوٹی سی کتاب ہے مگر اس میں تمام ضروری مسائل کا ذکر ہے۔اور باتوں کو جانے دو اگر نبی کے نام پر ہی غور کیا جائے تو انبیاء کا کام سمجھ آسکتا ہے۔عربی میں رسول اور نبی دو نام ہیں۔ان ناموں میں ہی ان کا کام بتا دیا گیا ہے۔رسول کے معنے ہوتے ہیں بھیجا ہوا۔اور نبی کے معنے ہو تے ہیں بڑی خبر دینے والا۔مسلمانوں نے بدقسمتی سے یہ بحث شروع کر دی ہے کہ رسول اور نبی الگ الگ ہو تے ہیں۔حالانکہ وہ اگر ان لفظوں پر ہی غور کر لیتے تو اس بحث میں نہ پڑتے۔کیا کوئی شخص یہ مان سکتا ہے کہ جو خبر دیتا ہے اسے خدا تعالیٰ نے نہیں بھیجا، اگر اسے خدا تعالیٰ نے نہیں بھیجا تو وہ خبر کیا دے سکتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے تو کیا وہ منہ بند کر کے بیٹھ جائے گا؟ لازماًوہ کچھ خبریں بھی دےگا۔درحقیقت رسول اور نبی یہ دو نام اس کی دو الگ الگ حیثیتوں کی وجہ سے رکھے گئے ہیں۔جب اس کا منہ خدا تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے تو وہ رسول کہلاتا ہے اور جب اس کا منہ لوگوں کی طرف ہو تا ہے تو وہ نبی کہلاتا ہے۔کیا چٹھی رساں ایسا کر سکتے ہیں کہ ڈاک لے کر وہیں بیٹھ جائیں اور کہہ دیں کہ ڈاک ہم نے لینی تھی وہ لے لی ہے کیا افسر انہیں یہ نہیں کہیں گے کہ تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔ڈاک تو تمہیں لوگوں کو پہنچا نے کے لئے دی گئی ہے نہ کہ تھیلہ میں بند کر نے کے لئے۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے کیا وہ وہیں بیٹھ جائے گا یا لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام بھی پہنچائے