تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 423
ہیں کہ ہم نے فلاں روک کو دور کردیا۔مگر درحقیقت اس روک کے علاوہ کئی اور روکیں بھی ہوتی ہیں۔جن کی طرف ان کا خیال بھی نہیں جا سکتا۔پس کامیاب انسان وہی ہوتاہے جو کہتا ہے کہ دنیا کا ذرّہ ذرّہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔وہ اتنا ہوشیار ہوتا ہے کہ بیوی بچے، استاد، شاگرد، مال جائیداد، مرتبہ عزّت، عمل، بے عملی، غرض ہرچیز سے ہوشیار رہتا ہے۔کیونکہ کبھی انسان اپنے کسی عمل کی وجہ سے محروم ہوجاتا ہے اور کبھی کسی بے عملی سے اور کبھی علم کی وجہ سے محروم رہ جاتاہے کبھی جہالت سے۔اس لئے کامیابی کا حقیقی خواہاں وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور گرتا ہے اور کہتا ہے اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ اے خدا مجھے معلوم نہیں کہ میرے راستہ میں ہلاکت اور رکاوٹیں کہاں کہاں سے آرہی ہیں۔اس لئے اے خدا جو خالق ہے تمام چیزوں کا ان کے شر سے مجھے بچا۔کیونکہ ان کے شر کا تجھے ہی پتہ ہے۔پس یہ ترقی کا پہلا زینہ ہوتا ہے کہ انسان ہر ذرّہ سے حتی کہ اپنے نفس سے بھی ڈرتا ہے اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہے۔پھر یہی نہیں کہ مومن اپنے ایمان کے متعلق ڈرتا ہے کہ ایسانہ ہو میرے دل میں تکبر پیدا ہوجائے اور میں مارا جائوں۔بلکہ وہ قرب الی اللہ سے بھی ڈرتا ہے کیونکہ یہ بھی ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے جیسے کہ بلعم کے لئے ہو گیا تھا۔اسی خطرہ کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ اِلَّا اِلَیْکَ کے الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ہم نہیں کہہ سکتے ہمارے لئے ہلاکت و وبال اسی راستہ سے آرہا ہو جو ہم نے تجھ تک پہنچنے کے لئے اختیار کیا ہے۔اس لئے ہماری نجات کی صورت تُوہی ہے تُو ہمیں اپنی پناہ میںلے لے۔پس مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ سے بتایا کہ انسان کو ہر ذرّہ سے ڈرنا چاہیے اور چونکہ انسان کو علم نہیں ہوتا کہ کون سی چیز اس کی ہلاکت کا باعث ہو سکتی ہے اس لئے ان اشیاء کے پیدا کرنے والے خدا سے ہی پناہ مانگنی چاہیے۔(۵) الفلق کے پانچویں معنے اس لکڑی کے ہیں جس میں مجرموں کو قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے۔پس ان معنوں کے اعتبار سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کے یہ معنے ہوں گے کہ میں قید خانوں کے مالک کی پناہ چاہتا ہوں۔اس بات سے کہ ایسا نہ ہو کہ میں قید خانے میں پڑجائوں اور اس کی شدائد اور مشکلات مجھے برداشت کرنی پڑیں۔گویا اس میں قومی لحاظ سے بھی دعا سکھائی گئی ہے اور فردی لحاظ سے بھی۔یعنی ایسا نہ ہو کہ ہماری قوم آپس میںلڑ پڑے اور ایک دوسرے کو قید خانوں میں ڈال کر شدائد میں مبتلا کردے۔یا ایسا نہ ہو کہ کوئی مخالف حکومت اٹھے اورا سلامی حکومت کو برباد کردے اور مسلمانوں کو قید وبند کی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے اور مسلمانوں کا آرام ختم ہوجائے