تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 37

علاوہ خود تورات کی اندر ونی شہادت اس بات پر موجود ہے کہ وہ محرف ومبدل ہو چکی تھی۔چنانچہ استثناء کے آخر میں لکھا ہے’’پس خدا وند کے بندہ موسیٰ نے خدا وند کے کہے کے موافق وہیں موآب کے ملک میں وفات پائی ‘‘ (۵/۳۴) کیا یہ موسیٰ علیہ السلام کا الہام کہلا سکتا ہے؟ پھر لکھا ہے ’’اور اس وقت سے اب تک بنی اسرائیل میں کوئی نبی موسیٰ کی مانند جس سے خدا وند نے رو برو باتیں کیں نہیں اٹھا ‘‘(۱۰/۳۴) کیا یہ موسیٰ علیہ السلام کا الہام ہوسکتا ہے؟ پھر لکھا ہے ’’اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں دفن کیا پر آج تک کسی آدمی کو اس کی قبر معلوم نہیں ‘‘ (۶/۳۴) یہ بھی ایک ایسا فقرہ ہے جو کسی شخص نے بعد میں لکھ کر تورات میں شامل کر دیاہے۔ان حوالہ جات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ کتاب نہیں جو موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی اگر قرآن کریم میں ہی یہ لکھا ہو کہ پھرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو کیا عیسائی اور ہندو وغیرہ یہ مان لیں گے کہ یہ محفوظ کتاب ہے؟ وہ فوراً یہ حوالہ نکال کر آگے رکھ دیں گے۔اور کہیں گے کہ تمہاری کتاب محرف و مبدل ہو چکی ہے مگر تورات میں یہ سب باتیں لکھی ہیں کہ پھر وہ مر گیا۔اس کے مرنے پر بنی اسرائیل چالیس دن تک روتے رہے اور یہ کہ اس جیسا کوئی آدمی اب تک بنی اسرائیل میں پیدا نہیں ہوا۔اس کی قبر کا پتہ نہیں چلتا کہ کہاں ہے یہ باتیں بتاتی ہیں کہ یہ وہ کتاب نہیں جو موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی اور یہ کہ آپ کے بعد آنے والے نبی بھی اس کو محفوظ نہیں رکھ سکے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل ہوئی وہ تیرہ سو سال کے بعد اب بھی محفوظ ہے اور اس کا ایک شوشہ بھی تبدیل نہیں ہوا۔حالانکہ آپ کے بعد اس عرصہ میں کوئی نبی بھی نہیں آیا۔میور اور نولڈ کے جیسے شدید دشمن بھی اس بات کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکے کہ قرآن کریم اسی شکل و صورت میں محفوظ ہے جس شکل و صورت میں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا۔میور جو اسلام کا شدید ترین دشمن ہے اور جو قدم قدم پر اسلام کی دشمنی کرتا ہے لکھتا ہے کہ THERE IS OTHERWISE EVERY SECURITY INTERNAL AND EXTERNAL THAT WE POSSESS THE TEXT WHICH MOHAMMAD HIMSELF GAVEFORTH AND USED یعنی اس کے علاوہ ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت موجود ہے اندرونی شہادت کی بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے وہی ہے جو خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اسے استعمال کیا کرتے تھے۔(LIFE OF MOHAMMAD PAGE:28 ) گویا شدید سے شدید دشمن بھی قرآن کریم کی حفاظت کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔یہ کتنی بڑی فضیلت ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔