تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 36

نے فرمایا مَا اَ نَا بِقَارِیءٍ میں تو لکھا پڑھا نہیں ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی کتاب آپ نے پڑھنی تھی۔جبریل علیہ السلام کے پاس کوئی کتاب نہیں تھی کہ وہ آپ سے کہتے یہ کتاب پڑھو اور جب کوئی وجود بغیر کتاب کے آئے اور کہے پڑھ تو اس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ جو کچھ میں کہتا جاتا ہوں تو اس کو دہرا تا جا پس جب آپ سے فرشتے نے کہا پڑھ تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اے شخص ( اس وقت آپ نبی نہیں تھے ) جو کچھ میں کہتا جاؤں تم اسے دہراتے جاؤ۔لیکن آپ فرماتے ہیں مَا اَ نَا بِقَارِیءٍ میں تو لکھا پڑھا نہیں ہوں۔یہ تھی آپ کی انکساری۔آپ سمجھتے تھے کہ میرے سپرد کوئی بڑا کام ہو نے والا ہے مگر خدا تعالیٰ بڑی شان والا ہے اور میں بندۂ عاجز ہوں۔ہو سکتا ہے کہ میں وہ کام پوری طرح سرانجام نہ دے سکوں اس لئے آپ نے کہا میں لکھا پڑھا نہیں ہوں۔فرشتے نے دوبارہ کہا اِقْرَاْ پڑھ۔آپ نے پھر فرمایا مَا اَ نَا بِقَارِیءٍ میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔پھر تیسری دفعہ فرشتے نے کہا اِقْرَاْپڑھ تو آپ پڑھنے لگ گئے۔یہ تھا انکسار۔موسیٰ علیہ السلام کی طرح آپ بار بار انکار نہیں کرتے گئے بلکہ جب آپ نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ اس امر کو بہر حال میرے ہی سپرد کرنا چا ہتا ہے تو آپ نے اس کا حکم فوراً مان لیا اور سمجھ لیا کہ اب انکار کرنا سوءِ ادبی ہے۔پھر آپ نے یہ نہیں کہا کہ مجھے کوئی مدد گار دیں بلکہ کہا کہ جب منشاء الٰہی ہی یہ ہے کہ میں اس بوجھ کو اٹھاؤں تو میں اس کو اکیلا ہی اٹھاؤں گا۔یہ ہے آپ کی فضیلت جو آپ کے مقام کو نمایاں کرنے والی ہے۔موسیٰ علیہ السلام کے سپرد ایک چھوٹا سا کام ہوا تو انہوں نے مدد گار مانگا مگر آپ کے سپرد اس سے بہت بڑا کام ہوا تو فرمایا میں اکیلے ہی اس کام کو سرانجام دوں گا اور آپ نے کامیاب طور پر وہ کام سرانجام دے دیا۔یہ کتنی بڑی فضیلت ہے جو آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حاصل ہے۔چوتھی فضیلت (۴)حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک کتاب ملی مگر فرق یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو کتاب ملی باوجود اس کے کہ ان کے بعد متواترنبی آئے وہ محفوظ نہ رہ سکی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کتاب ملی باوجود اس کے کہ آپ کے بعد تیرہ سو سال تک کوئی نبی نہیں آیا وہ اب تک محفوظ چلی آرہی ہے۔جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تو یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ تورات بگڑ چکی تھی۔یہودی کتب میں لکھا ہے کہ جب بخت نصربادشاہ نے حضرت داؤد علیہ السلام کے شہروں اور گرجوں کو توڑا اور اس نے یہودیوں کو افغانستان اور ایران میں بسا دیا اور بعض کو کشمیر بھیج دیا تو اس وقت تورات کے سارے نسخے جل گئے تھے یا پھٹ کر ضائع ہو چکے تھے۔پھر عزرا نبی اور چار پانچ زود نویسوں نے مختلف حفاظ کے ساتھ مل کر کتاب جمع کی۔دیکھو APOCRYPHA II ESADRAS 14 گویا چھ سو سال کے بعد ہی کتاب ختم ہو گئی۔اس کے