تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 404

ایک کیلا گاڑ کے سوراخ کو اس طرح تنگ کردیا جاتا کہ کوئی پائوں نہ نکال سکے۔مَایَبْقٰی مِنَ اللَّبَنِ فِیْ اَسْفَلِ الْقَدَحِ۔دودھ کا وہ حصہ جو آخر میں پیالہ میں رہ جاتا ہے۔اور فلق اس دودھ کو بھی کہتے ہیں جو کھٹا ہو کر پھٹ جاتا ہے۔وَالشَّقُّ فِی الْـجَبَلِ۔اور پہاڑ میں جو شگا ف ہوتا ہے اس کو بھی فلق کہتے ہیں۔(اقرب) مفردات میں ہے۔اَلفَلْقُ : شَقُّ الشَّیْءِ وَاِبَانَۃُ بَعْضِہٖ عَنْ بَعْضٍ۔کہ فلق کے معنے ہیں کسی چیز کا پھاڑنا اور اس کے بعض حصوں کو دوسروں سے جد اکردینا۔وَقَوْلُہٗ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اَیْ اَلصُّبْحِ وَقِیْلَ الْاَنْـھَارِ الْمَذْکُوْرَۃِ فِیْ قَوْلِہٖ وَجَعَلَ خِلَالَھَا اَنْـھَارًا۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں فلق سے مراد صبح ہے (درحقیقت صبح کو فلق اس لئے کہتے ہیں کہ پوپھٹتی ہے اور اس میں سے سفیدی نمودار ہو کر فضا ء کو دوحصوں میں تقسیم کر دیتی ہے) نیز بعض لوگوں نے فلق کے معنے نہروں کے بھی کئے ہیں اور یہ معنے اس وجہ سے ہیں کہ نہروں کا پانی زمین کو پھاڑتا ہے۔(مفردات) پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کے معنے ہوں گے۔۱۔میں اس خدا کی پناہ چاہتاہوں جو اندھیرے کے بعد روشنی پیدا کرتا ہے۔۲۔میں اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جس نے سب کچھ پیدا کیا ہے۔یا جس نے جہنم کو پیدا کیا ہے۔یا جس نے دوگھاٹیوں کے درمیان ایک عمدہ میدان بنایا ہے (یعنی اسلام جو افراط و تفریط کے درمیان ہے ) ۳۔یا میں اس خدا کی پناہ میں آتا ہوں جس کا اقتدار قید خانوں پر بھی ہے۔۴۔اس خدا کی پناہ چاہتاہوں جو نہروں کا رب ہے۔۵۔اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جس کے قبضے میں پیالے کا بچاہوا دودھ ہے۔تفسیر۔سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو معوّذتان کہتے ہیں۔یعنی وہ سورتیں جن کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جاتی ہے اور ان کا یہ نام اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ ان دونوں کے ابتدا میں قُلْ اَعُوْذُ کے الفاظ رکھے گئے ہیں یعنی ہر پڑھنے والے کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں ہر قسم کے شر سے بچنے کے لئے رب الفلق اور ربّ الناس کی پناہ میں آتا ہوں۔قومی لحاظ سے اور فردی لحاظ سے بھی۔یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ۔(النحل:۹۹) یعنی اے قرآن کریم کے ماننے والے جب تُو قرآن کو پڑھنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے استعاذہ کر لیا کر۔پس قرآن کریم کے شروع کرتے وقت اَعُوْذُ پڑھنے کا حکم تو دیا لیکن قرآن کریم کے شروع میں اَعُوْذُ نازل نہیں کیا۔