تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 403
مسلمانو! جب تمہیں خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے مطابق غلبہ مل جائے تو تم اللہ تعالیٰ کے حضور جُھک جانا اور دعا کرنا کہ تمہارے اندر کوئی ضعف پیدانہ ہو اور تمہارا سورج کبھی ڈوبنے نہ پائے بلکہ نصف النہار پر چمکتا رہے۔اور کسی قسم کا شر پیدا نہ ہواور نہ توتمہارا اندرونی نظام درہم برہم ہو کر تمہارا شیرازہ بکھر ے اور نہ کوئی بیرونی حاسد کھڑا ہوجائے اور تمہاری حکومت کو تباہ کردے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے انتہا کرم کرنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے ( اس سورۃ کو شروع کرتاہوں) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ۰۰۲ (ہم ہر زمانہ کے مسلمان سے کہتے ہیںکہ) تُو (دوسرے لوگوں سے ) کہتا چلا جا کہ میں مخلوقات کے رب سے (اس کی) پناہ طلب کرتا ہوں۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ۰۰۳ اس کی ہر مخلوق کی (ظاہری اور باطنی ) برائی سے (بچنے کے لئے ) حلّ لُغات۔اَعُوْذُ۔عَاذَ سے مضارع متکلم کا صیغہ ہے۔اور عَاذَ بِہٖ مِنْ کَذَا کے معنے ہیں۔لَـجَأَ اِلَیْہِ وَاعْتَصَمَ۔کسی کی پناہ اور حفاظت میں آکر بچائوچاہا۔چنانچہ جب اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ کہتے ہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں۔اَلْتَجِیُٔ اِلَی اللہِ وَاعْتَصِمُ مِنَ الشَّیْطَانِ۔کہ میں اللہ کی پناہ میں آکر شیطان کے حملوں سے بچتاہوں۔اور جب عَاذَ بِالشَّیْءِ کہیں تو معنے ہوں گے لَزِمَہٗ اس کے ساتھ چمٹ گیا۔نیز جب عَاذَتْ بِوَلَدِ ھَا کافقرہ بولیں تو معنے ہوتے ہیں قَامَتْ مَعَہٗ۔یعنی فلاں عورت اپنے بچہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔(اقرب) پس اَعُوْذُ کے معنے ہوں گے میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔(۲) میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ چمٹے رہنا چاہتاہوں۔اَلْفَلَق کے معنے ہیں۔اَلصُّبْحُ۔صبح۔اَلْـخَلْقُ کُلُّہٗ۔ساری مخلوقات۔جَھَنَّمُ۔جہنم۔اَلْمُطْمَئِنُّ مِنَ الْاَرْضِ بَیْنَ رَبْوَتَیْنِ۔دو چوٹیوں کے درمیان میدانی زمین۔مَقْطَرَۃُ السُّجَّانِ۔وہ لکڑی جس میں اتنے چوڑے سوراخ ہوتے ہیں کہ جس میں انسان کی پنڈلیاں آجائیں۔اس میں مجرموں کو قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے۔اور